کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آئی آر آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمزکے خودکار ”فاسٹر پلس“ سسٹم دنیاکا بہترین سسٹم ہے جو یکم اکتوبر 2020 ء سے فعال ہوچکا ہے۔
اس سسٹم میں جیسے ہی دعویدار درکار 8 مراحل مکمل کرتا ہے تو کسی انسانی مداخلت کے بغیر 42 سے 72 گھنٹوں کے اندر رقم کی واپسی کے کلیم پر عمل درآمد کردیا جاتا ہے،ہم نے تمام علاقائی ممالک کی ایسی مصنوعات کا جائزہ لیا لیکن”فاسٹر پلس“ رقوم کی واپسی کا کسی بھی علاقائی ملک کے مقابلے میں بہترین نظام ہے۔
یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی، وائس چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا اور انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر شارق وہرا، سینئر نائب صدر ثاقب گڈ لک، نائب صدر شمس الاسلام اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی شریک تھے۔
ڈاکٹر اشفاق احمد نے بتایا کہ انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں آسانی کے لیے بھی اسی طرح کے سسٹم کو تیار کیا جارہا ہے تاکہ انکم ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کو کم سے کم وقت میں نمٹایا جاسکے جبکہ تمام سابقہ انکم ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کے کلیمز بھی جلد از جلد نمٹادیئے جا ئیں گے۔
حکومت انتہائی پرعزم ہے اور ہم برق رفتاری سے ادائیگیاں کر رہے ہیں لہذا اس سال کے آخر تک تمام انکم ٹیکس ریفنڈز کی واپسی کا بیک لاگ ختم ہوجائے گا۔ممبر آئی آر نے واضح کیا کہ ”فاسٹر پلس“ نے ہر طرح کی انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے اور ان مسائل کی روک تھام کی ہے جو گذشتہ نظام میں ٹیکس دہندگان برداشت کر رہے تھے۔
سسٹم میں رقم کی واپسی کے دعوؤں پر عمل درآمد سے پہلے جانچ کے صرف 8مراحل ہیں اور اگر کوئی پریشانی ہو تو نظام از خود واپسی کے دعویدار کو نقائص سے مطلع کردے گا۔ یہ سسٹم حل بھی بتائے گا اورساتھ ہی یہ بھی بتائے گا کہ کون اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔
مسئلہ حل ہونے کے بعد ریفنڈ کلیم کو دوبارہ جمع کرانے پر جب فاسٹر پلس گرین سگنل دے تو پھر یہ ایف بی آر کی ذمے داری ہے کہ جلد از جلد رقم کی واپسی کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران ایف بی آر نے250 ارب روپے کے ریفنڈز کلیمز جاری کیے ہیں جو ایک معقول رقم ہے۔
اگرچہ معاملات میں بہتری آرہی ہے اور ہم ٹیکس دہندگان کی سہولیات مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن ملک میں مزید بہتر پبلک فنانس سسٹم کی ضرورت ہے لہٰذا ایف بی آر کے ہیڈ آفس میں کوششیں جاری ہیں جہاں ہم موجودہ ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے دن میں 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔
ملک کے ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے کے طریقوں اور ذرائع کی تلاش کے علاوہ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا احساس موجود ہے جس سے موجودہ ٹیکس دہندگان پر دباؤ کم ہوگا۔ڈاکٹر اشفاق احمد نے ویڈیو مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر کے وضع کردہ نئے قواعد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صنعتکاروں کے حق میں ہے کیونکہ یہ انسانی مداخلت سے بچائے گا جس کی وجہ سے عام طور پر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں چونکہ ٹیکنالوجی ہی واحد حل ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے ویڈیو مانیٹرنگ کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا اور یہ خوشی کاباعث ہے کہ مختلف شعبوں سے بہت ساری صنعتیں اپنے تجارتی احاطے میں ویڈیو مانیٹرنگ کو جلد سے جلد نافذ کرنا چاہتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی ایف بی آر کے ہیڈ آفس کے کنٹرول روم میں الیکٹرانک طور پر تفصیلات منتقل کرتی ہے جنہیں اکٹھا کرکے معلومات کو اعداد میں تبدیل کیا جائے گا۔شیڈول III میں موجود مصنوعات کو ویڈیو نگرانی سے مشروط کیا گیا ہے جب کہ کوئی دوسری شے جو شیڈول III میں نہیں ہے اگر ضروری محسوس ہوا تو اسے بھی ویڈیو مانیٹرنگ سے مشروط کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مختلف قوانین اور پالیسیوں پر اظہار تشویش کے جواب میں کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان قوانین اور پالیسیوں کو مرتب کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ محکمہ محض ایک عمل درآمد کا ادارہ ہے۔تمام قانونی نکات اور پالیسی سے متعلق امور کو پارلیمنٹیرین کے سامنے اٹھانا ہوگا اور ہم بھی انہیں آگے ارسال کریں گے لیکن بالآخر پارلیمنٹ ہی قوانین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے۔
اس موقع پر بی ایم جی کے چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ایف بی آرکی جانب سے نافذ کیا گیا ویڈیو نگرانی کا نظام جس میں شیڈول III میں تمام مصنوعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ہوسکتا ہے کہ ایک اچھا نظام ہو لیکن یہ دانشمندانہ اقدام نہیں اور نہ ہی ایف بی آر کو اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کا امکان ہے۔
ایف بی آر حکام اور ٹیکس دہندگان کے مابین اعتماد کے فقدان کی وجہ سے تاجروصنعتکار برادری کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے بدعنوانی کی مزید راہیں کھلیں گی کیونکہ اس طرح کے کمپیوٹرائزڈ سسٹمز کو ماضی میں بھی متعارف کرایا گیا جن کی وجہ سے ابتداء میں اچھاکام ہوا اور بدعنوانی سے نمٹنے میں مدد ملی لیکن بعد میں ان کمپیوٹرائزڈ سسٹمز اور سافٹ ویئرز کو دانستہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں تاکہ بدعنوان اہلکاروں کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کا موقع دوبارہ مل سکے۔
انہوں نے کہاکہ ٹیکس چوری اکیلے نہیں کی جاسکتی ہے اور یہ بدعنوانی ایف بی آر کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے کی جارہی ہے جو ٹیکس میں کمی کے طریقے بتاتے ہیں تاکہ وہ اپنا حصہ حاصل کرسکیں۔یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ ایسے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں جبکہ ٹیکس دہندگان کو نوٹسز اور قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سراج تیلی نے قانونی چارہ جوئی کی وجہ سے ریونیو کی مد میں 1.856 کھرب روپے کی خطیر رقم پھنسنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ بہت سارے کیسز قانونی چارہ جوئی میں ہیں اور ہر سال ایسے کیسز کی تعداد بڑھتی ہی رہتی ہے جبکہ رواں سال 1.856 کھرب روپے سب سے زیادہ ہوں گے۔
ایف بی آر کو اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے لازمی طور پر قابلِ بھروسہ کاروباری افراد، ماہرین اور ایماندار ایف بی آر حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جو مل بیٹھ کر ان تمام معاملات کو حل کرے اور ان تمام کیسز کا جائزہ لیکر انہیں الگ الگ کردیا جائے جس سے یہ تمام کیسز 3 سے 4 کیٹگریز میں تقسیم ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ اس طرح کے کیسز کی پہلی قسم ان افراد کی ہوگی جو جعلی کاروبار چلا رہے ہیں جبکہ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوگی جو ایف بی آر حکام کی جانب سے ہدف کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی میں پھنس گئے ہیں اور تیسری قسم ان ٹیکس دہندگان کی ہے جو حقیقی طور پر ٹیکس مسائل سے دوچار ہیں۔
ان حقیقی کیسز کو الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے تاکہ کیسز کو قانونی چارہ جوئی کے بغیر حل کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر حکام کو ہر سال فنانس بل میں حد سے زیادہ صوابدیدی اختیارات دے دیے جاتے ہیں جن کا مقصد ملک کے ٹیکس ریونیوکی وصولی کو بہتر بنانا نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کا بازو مروڑنے اور ہراساں کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ممبر آئی آر کی جانب سے دیانتداری سے کیے گئے کسی بھی اقدام کی کراچی چیمبر بھرپور حمایت کرے گا لیکن ایماندار ٹیکس دہندگان کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر ایم شارق وہرا نے اپنے خطاب میں ممبر آئی آر سے درخواست کی کہ وہ تمام ایس آر اوز اور نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے پہلے کے سی سی آئی اور دیگر ٹریڈ باڈیز کے ساتھ تبادلہ کریں کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ایف بی آر کو تاجروصنعتکار برادری کے نمائندوں کے ساتھ ان ایس آر اوز کا تبادلہ کرنے سے روکے۔
اگر کے سی سی آئی کے ساتھ ان ایس آر اوز اور نوٹیفیکشنز کا تبادلہ کیا جائے تو ہم ان کا جائزہ لیتے ہوئے فخر محسوس کریں گے اور کے سی سی آئی میں موجود ماہرین سے رائے لیں گے۔ہمارے پاس ٹیکسیشن سے متعلق بہترین مہارت ہے یہ صرف کراچی چیمبر پر ایف بی آر کے اعتماد کی بات ہے جس کی رائے ایف بی آر اور ملک کی معیشت کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ جبری ریگولیٹری ریجم کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کی تعداد 2.8 ملین سے کم ہو کر 2.4 ملین ہوگئی ہے کیونکہ ملک بھر میں موجودہ ٹیکس دہندگان کو درپیش مشکلات کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی اکثریت ٹیکس نیٹ سے دور رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔