ایف بی آر کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر واضح وضاحت نے ملک بھر کے ٹیکس دہندگان کو مزید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس وضاحت میں کہا گیا کہ جن ٹیکس دہندگان نے مقررہ مدت کے اندر ریٹرن جمع کرانے کی توسیعی درخواست دی تھی، ان کے نام ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ سے خارج نہیں کیے گئے تاہم ماہرین کے مطابق ایف بی آر کا یہ مؤقف حقائق کے برعکس ہے۔
ایف بی آر کے مطابق بعض میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ گمراہ کن رپورٹ گردش کر رہی تھی کہ بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان کو غیر فعال قرار دیا گیا ہے۔
اس کے ردعمل میں ایف بی آر نے وضاحت جاری کی کہ جن افراد نے مقررہ وقت کے اندر توسیع کی درخواستیں جمع کرائی ہیں، انہیں آٹومیٹک طور پر 15 دن کی مہلت فراہم کر دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین کی ہدایت کے مطابق یہ سہولت صرف انہی افراد کے لیے ہے جنہوں نے نظام کے ذریعے توسیع کی درخواست دی۔
ادارے نے مزید بتایا کہ سال 2025 کی ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ، ٹیکس ایئر 2024 کے تحت جمع شدہ ریٹرنز اور 15 نومبر 2025 تک فائل کیے گئے نئے ریٹرنز پر مشتمل ہوگی۔
ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حالیہ انکم ٹیکس رولز میں ترمیم کے بعد ہاتھ سے جمع کرائے گئے ریٹرنز قبول نہیں کیے جائیں گے۔
ایف بی آر نے اُن ٹیکس دہندگان کو ایک ماہ کی خصوصی مہلت دینے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے گزشتہ برس اپنے ریٹرنز دستی طور پر جمع کرائے تھے۔
اس مدت کے دوران ریجنل ٹیکس آفسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کو ای فائلنگ سسٹم میں منتقلی کے لیے مکمل معاونت فراہم کریں۔
ادارے کے مطابق وہ ٹیکس دہندگان جو مقررہ مدت میں ریٹرنز فائل نہیں کر سکے، وہ اب بھی 15 نومبر 2025 تک توسیع کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ تاخیر کی وجوہات بیان کریں اور متعلقہ کمشنر سے منظوری حاصل کریں۔
ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کی سہولت، شفافیت اور ڈیجیٹل سسٹمز کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ تمام حقیقی فائلرز اپنی ایکٹیو حیثیت برقرار رکھ سکیں۔
سپریم کورٹ کے ٹیکس وکیل وحید شہاد بٹ نے اس بیان کو سراسر غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے انہیں یکم نومبر کو غیر فعال قرار دے دیا، حالانکہ انہوں نے 31 اکتوبر کو توسیع کی درخواست جمع کرائی تھی۔
ان کے مطابق یہی رویہ اُن تمام ٹیکس دہندگان کے ساتھ اپنایا گیا جنہوں نے آخری تاریخ پر درخواست جمع کرائی مگر ریٹرن فائل نہ کیا۔
اس متضاد صورتحال نے ملک کے کاروباری طبقے اور عام ٹیکس دہندگان میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایف بی آر کے نئے قواعد کا حقیقی اطلاق آخر کیسے ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








