حکومت نے موسم سرما میں گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کیلئے ایل این جی کی در آمد میں اضافے کے ساتھ سی این جی اسٹیشنز اور کیپٹو پاور پلانٹس کو چارماہ کیلئے گیس کی بندش پر غور شروع کردیا ہے۔
مسلسل بڑھتی طلب اور رسد میں کمی کے ساتھ مختلف فیلڈز سے گیس کی پیداوار میں کمی کے بعد اس سال بھی موسم سرما میں گیس کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس سال موسم سرما طویل اور زیادہ شدید رہنے کے بھی امکانات ہیں اور حکومت کا خیال ہے کہ موسم سرما میں گیس کی طلب و رسد میں فرق 2500 تا 3000 ایم ایم سی ایف ڈی کے درمیان رہنے کے توقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت آئندہ انتخابات سے قبل کسی بھی قسم کے بحران سے بچنا چاہتی ہے اس لیے حکومت نے موسم سرما میں گھریلوصارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کیلئے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے موسم سرما میں نومبر تا فروری تک گیس کی فراہمی کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
اس حکمت عملی میں ایل این جی کی در آمد میں اضافے کے ساتھ پاور پلانٹس کو فرنس آئل پر چلانا بھی شامل ہے جبکہ سی این جی اسٹیشنز اور کیپٹو پاور پلانٹس کو چار ماہ (نومبرتا فروری) تک گیس فراہمی معطل کئے جانے کا آپشن بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے دونوں گیس کمپنیوں سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو ترسیلی نقصانات (یو ایف جی) پر قابو پانے کی بھی ہدایات کی ہیں جبکہ گیس چوری اور نادہندگان کے خلاف بھی سخت اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








