وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری دے دی

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری دے دی
وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری دے دی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے متعلق متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے متعلق آئی ایم ایف نے مختلف شرائط عائد کی تھیں۔ قرض کے حصول کیلئے شرائط پوری کرنے کیلئے وفاقی کابینہ نے متنازعہ ترمیمی بل منظور کیا جس میں حکومت کے مرکزی بینک سے قرض لینے پر کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مہنگائی کانیاطوفان تیار،منی بجٹ منظوری کیلئے وفاقی کابینہ اجلاس کل طلب

وفاقی کابینہ نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

دوسری جانب ترمیمی بل کے تحت مجوزہ طور پر گورنر کی مدتِ ملازمت 3 سال کے بجائے 5 سال کردی جائے گی۔ تاہم موجودہ گورنرڈاکٹر رضا باقر پر یہ شرط عائد ہوگی یا نہیں، یہ فی الحال واضح نہیں۔آئی ایم ایف کا مجوزہ ٹیکس قوانین سے متعلق چوتھا ترمیمی بل مؤخر کردیا گیا ہے۔

تحریکِ انصاف حکومت کے اتحادی چوتھے ترمیمی بل کی منظوری میں رکاوٹ بن گئے۔ اتحادیوں نے حکومت سے بل پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل آئندہ 48 گھنٹوں میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی آج یا کل منظور کر لے گی۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) کی منظوری دے دی ہے جو ایک تاریخی کامیابی ہے۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے گزشتہ روز کہا کہ ایک شہری پر مبنی جامع قومی سلامتی کی پالیسی میں معاشی تحفظ بنیادی طور پر شامل کیا گیا ہے جس پر سنجیدگی سے عمل ہوگا۔ 

 

Related Posts