وفاقی کابینہ کا منظم تشدد میں ملوث عناصر کیساتھ نرمی نہ برتنے پر زور

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی کابینہ کا منظم تشدد میں ملوث عناصر کیساتھ نرمی نہ برتنے پر زور
وفاقی کابینہ کا منظم تشدد میں ملوث عناصر کیساتھ نرمی نہ برتنے پر زور

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے عمران خان کی بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد ریاست، آئین، قانون اور قوم کے وقار کیخلاف منظم تشدد میں ملوث عناصر کیساتھ کوئی نرمی نہ برتنے پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کے زیرصدارت اسلام آباد میں ہونے والے کابینہ اجلاس نے آئین اور قانون کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کر کے انہیں نشان عبرت بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔

اجلاس میں ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ ایک شرپسند اور غیرملکی فنڈنگ سے چلنے والی پارٹی کے رہنما نے ملک کا وہ نقصان کیا جو گزشتہ 75 سالوں میں دشمن بھی نہ کر سکا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کو القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری اور سپریم کورٹ کے حکم پر ان کی فوری رہائی کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے حساس قومی تنصیبات، عمارتوں، جناح ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنوں کے حملوں، یادگار شہداء کی بے حرمتی، جلاؤ گھیراؤ، سوات موٹروے کو بند کرنے، ریڈیو پاکستان پشاور اور دیگر نجی و سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات کو آئینی اور جمہوری احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیاں تھیں جنہیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔

وفاقی کابینہ نے پاکستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے 60 ارب کی کرپشن، ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

مزید پڑھیں:عدالت کا عمران خان کو 17 مئی تک کسی نئے مقدمہ میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

وفاقی حکومت نے مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے عوام کے جان و مال اور سرکاری املاک کے تحفظ کیلئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مسلح افواج‘ پاکستان رینجرز‘ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

Related Posts