اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے اور 51 فیصد سے 100 فیصد تک شیئرز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ منگل کے روز کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی۔
اسحاق ڈار کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد ایئرلائن کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔
نجکاری کے بعد پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول بھی منتقل کر دیا جائے گا۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ ایئرلائن کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
19 مارچ کو نجکاری کمیشن بورڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کی دوسری کوشش کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دی تھی۔
یہ فیصلہ نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کی۔
منصوبے کے تحت پی آئی اے سی ایل کے 51 فیصد سے 100 فیصد تک شیئرز کے ساتھ انتظامی کنٹرول کی فروخت شامل ہے۔
نجکاری کمیشن کی وزارت کے مطابق بورڈ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) کو پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کی دوسری کوشش کے لیے مجوزہ ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی سفارش کی ہے جس میں 51 فیصد سے 100 فیصد شیئر کی فروخت اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ارفع حبیب گروپ، ٹبہ گروپ اور وائی بی ہولڈنگز پی آئی اے کی نجکاری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ان گروپس کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں پی آئی اے کے ممکنہ حصول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








