اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں اقتدار کا خلا ہے، ایسے میں غیر روایتی رابطے بہتر ضروری ہو گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل میں ہیں اور وہ اس وقت طالبان قیادت کے علاوہ سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار سمیت دیگر افغان رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا فی الحال افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے وہاں اقتدار کا خلا ہے ان حالات میں پاکستان کے سیاسی نظام میں سے کس ایک رہنما کو وہاں ملاقات کرنی چاہیے؟ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے، جو ابھی موجود نہیں ہیں۔
فواد چوہدری نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہ ملک افغانستان پر دنیا سے مختلف پالیسی پر عمل پیرا ہے، کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے بحران پر برسوں سے سیاسی حل کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس بات کی اہمیت کا اندازہ حال ہی میں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر کوئی تحفظات ہوں اور مختلف امور پر بات چیت کے لیے غیر روایتی روابط استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان صرف جنگ زدہ ملک کے استحکام میں کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ نئی حکومت کو خطے میں موجود ممالک کے اور عالمی طاقتوں کی مشاورت سے تسلیم کیا جائے گا۔
فواد چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت ٹیکس دہندگان اور لوک سبھا کے نمائندگان کو مودی حکومت کی افغان حکمت عملی کے بارے میں سوال کرنے چاہیے جس میں انہوں اربوں ڈالرز ضائع کردیے جبکہ یہ رقم غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کی جاسکتی تھی۔
ایک اور سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت بنانا صرف افغان شہریوں کا حق ہے اور پاکستان وہاں ایک جامع حکومت کے خیال کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اور میڈیا افغانستان کو سب سے بڑا مسئلہ بنا کر کیوں پیش کر رہے ہیں حالانکہ ان دونوں ممالک کی سرحد ایک انچ بھی آپس میں نہیں ملتی۔
یہ بھی پڑھیں : گوادر اور مستونگ چیک پوسٹ پر دھماکے کرنے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی، وزیر داخلہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








