کراچی : شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد ہراساں کرنے کا بھی الزام لگ گیا، پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی شازیہ سنگھار نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو تحریری شکایت کر دی جس پر ایف آئی اے متحرک ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی نے تحریری شکایت پر تحقیقات شروع کردیں۔ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں مالی بے ضابطگیوں پر وائس چانسلر کے خلاف نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن میں درجنوں شکایات جمع ہیں جس پر علیحدہ علیحدہ تحقیقات جاری ہیں تاہم سندھ حکومت نے اختر بلوچ کو معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے اشتہار کی شرائط مکمل کیے بغیر ہی تین سال کیلئے دوبارہ وائس چانسلر مقرر کر دیا تھا۔
جامعہ ہری پور سلیکشن بورڈ میں من پسند بھرتیاں کرنے کی تیاریاں مکمل
وائس چانسلر سے اختلاف کرنے والے دو فکلیٹی ممبرز کے خلاف اختر بلوچ نے ذاتی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں معطل بھی کر دیا تھا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن سندھ اسمبلی شازیہ کریم سنگھار نے بھی شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اختر بلوچ پر ہراسگی کا الزام عائد کر دیا۔ ایم پی اے نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو باضابطہ طور پر تحریری درخواست ارسال کردی۔
خاتون رکن سندھ اسمبلی نے ایف آئی اے سائبر کرائم کو تحریری درخواست میں بتایا کہ رکن سندھ اسمبلی کی حیثیت سے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی سنڈیکٹ کی رکن ہوں اور وائس چانسلر کے خلاف متعدد بار شکایت کی اور یونیورسٹی کے معاملات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے اور وائس چانسلر اختر بلوچ کے خلاف مذکورہ سنڈیکٹ کے اجلاس میں فنڈز میں خوردبرد کی نشاندہی بھی کی ہے جس کے بعد سے مجھے ہراساں کرنا شروع کیا گیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








