کراچی میں مبینہ طور پر پولیس حراست کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان عرفان بلوچ کی موت کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی غیر جانب دارانہ چھان بین کی جا سکے۔
عرفان بلوچ کو چند دیگر افراد کے ساتھ پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم دورانِ تفتیش اس کی طبی حالت بگڑ گئی۔ پولیس اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے جو پولیس کے اس موقف کے برعکس ہیں کہ عرفان کو دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی۔
ایس ایس پی ساؤتھ امجد احمد شیخ کے مطابق سندھ پولیس نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے کیس ایف آئی اے کے حوالے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پولیس ملزمان کو بچا رہی ہے، انصاف ضرور ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پیر تک کیس کا مکمل ریکارڈ ایف آئی اے کے حوالے کر دیا جائے گا۔
صدر پولیس اسٹیشن میں غفلت اور غیر ارادی قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں سات اہلکاروں کو نامزد کیا گیا، جن میں اے ایس آئی عبید شاہ، اے ایس آئی سرفراز اور کانسٹیبل فیاض شاہ، وقار اور آصف علی شامل ہیں۔ ان میں سے دو اہلکاروں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
عرفان بلوچ کا تعلق بہاولپور سے تھا اور وہ سیر و تفریح کے لیے کراچی آئے تھے جب پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔ اب ایف آئی اے پولیس تشدد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غفلت کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








