دنیا بھر میں مسیحی برادری ہر سال چالیس روزہ “لینٹ” کے روزے رکھتی ہے، جو مذہبی طور پر بے حد اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ روزے ایسٹر سے چالیس دن پہلے شروع ہوتے ہیں اور خود احتسابی، دعا، توبہ اور روحانی تربیت کا ایک لازمی جزو ہیں۔
مسیحی روزوں کی روایت ابتدائی صدیوں میں شروع ہوئی اور تاریخی شواہد کے مطابق چوتھی صدی عیسوی میں اسے باقاعدہ طور پر مسیحی عبادات کا حصہ بنا دیا گیا تاہم اس سے پہلے بھی مسیحی برادری کے افراد مختلف انداز میں روزے رکھتے تھے۔
روزے کا تصور صرف مسیحیت تک محدود نہیں، بلکہ یہ قدیم یہودی اور دیگر سامی مذاہب میں بھی پایا جاتا تھا۔ یسوع مسیح نے خود بھی چالیس دن کا روزہ رکھا تھا، جس کا ذکر متی 4:2 میں ملتا ہے: “اور وہ چالیس دن اور چالیس رات تک روزہ رکھ کر آخر کو بھوکا ہوا۔” یہی وجہ ہے کہ مسیحی برادری بھی چالیس دن کے روزے رکھتی ہے۔
مسیحی روزہ رات بارہ بجے سے شروع ہوتا ہے اور اگلی شام سات بجے کھولا جاتا ہے۔ روزے کے دوران کھانے پینے سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے۔ روزوں میں کھانے پینے کے حوالے سے غلط فہمیاں بعض غیر مسیحی مذاہب کی وجہ پائی جاتی ہیں تاہم مسیحی روزوں میں ناصرف کھانے پینے کی ممانعت ہے بلکہ مسیحی روزے کے دوران سادگی کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔
روزہ رکھنے والے افراد اکثر سادہ روٹی اور پانی سے افطار کرتے ہیں اور پورے دن عبادت، دعا اور نیکی کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ بائبل میں روزے کے حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں کہ روزہ دار کو اپنی صورت اداس نہیں بنانی چاہیے اور نہ ہی اس پر واویلہ کرنا چاہیے۔
یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ یہ آیت یہودیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو روزہ کرکے دوسروں کو تنگ کرتے اور جتاتے تھے کہ وہ روزہ دار ہیں تاہم مسیحیوں کو روزے کے بارے میں واویلہ کرنے،دہائیاں دینے،بری یا اداس شکلیں بنانا سخت منع ہے، مسیحی روزے میں کام سے کوئی ریلیف نہیں لے سکتے۔
روزوں کے ایام میں گوشت ،ہائی پروٹین والی اشیاء، دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات،انڈے، خون والی کوئی بھی غذا اور نشہ آور اشیاءکی سختی سے ممانعت ہوتی ہے۔روزوں کے سیزن میں سادہ روٹی اور پانی،سبزیاں اور دالیں،زیتون کا تیلکچھ مخصوص مچھلیاں کھانے کی اجازت ہوتی ہے۔
روزہ رکھنے کا مقصد صرف کھانے پینے سے پرہیز نہیں، بلکہ روحانی اصلاح، دعا، توبہ اور خیرات بھی اس کا لازمی جزو ہیں۔مسیحی عقیدے کے مطابق روزہ صرف اپنی ذات کو محدود کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دوسروں کی مدد کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دوران خیرات، محتاجوں کی مدد اور انسانیت کی خدمت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
مسیحی روزے محض کھانے پینے سے پرہیز کرنے کا نام نہیں بلکہ ان کا مقصد روحانی پاکیزگی، دعا، توبہ اور دوسروں کی مدد کرنا بھی ہے۔ اسی وجہ سے مسیحی روزوں کے دوران خیرات پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ دنیا کے بے شمار فلاحی ادارے مسیحیوں کی خیرات سے چلتے ہیں۔
قدیم روایات میں، جب کوئی شخص گناہ کرتا تھا، تو وہ توبہ کے طور پر “ٹاٹ اوڑھ کر ہیکل کے باہر بیٹھتا تھا”۔ یہ ایک علامتی عمل تھا جو اس کی عاجزی، توبہ اور خدا سے معافی کی التجا کو ظاہر کرتا تھا۔ اس روایت کی ایک نمایاں مثال یونس نبی کے قصے میں ملتی ہے، جب نینوہ کے لوگوں نے گناہ سے توبہ کی اور بطور ندامت ٹاٹ اوڑھ کر روزے رکھے۔
نینوہ کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ رکھا اور چھوٹے سے بڑے تک سب نے ٹاٹ اوڑھ لیا۔” (یونس 3:5)
یہی روایت بعد میں مسیحیت میں بھی جاری رہی اور “راکھ کے بدھ” کی صورت میں موجود ہے، جہاں مسیحی راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر توبہ کا اعلان کرتے ہیں۔
جب یسوع مسیح کے شاگردوں نے روزے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:”کیا باراتی جب تک دولہا ان کے ساتھ ہے روزہ رکھ سکتے ہیں؟ جب تک دولہا ان کے ساتھ ہے وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ دن آئیں گے جب دولہا ان سے جدا کیا جائے گا، تب وہ ان دنوں میں روزہ رکھیں گے۔” (مرقس 2:19-20)
اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ خدا سے قربت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
بائبل میں روزے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ متی 6:16-18 میں لکھا ہے:جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بنا، کیونکہ وہ اپنے چہرے بگاڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو دکھائی دے کہ وہ روزے سے ہیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ لیکن جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر پر تیل لگا اور اپنا منہ دھو تاکہ آدمیوں کو نہیں بلکہ تیرے باپ کو جو پوشیدگی میں ہے معلوم ہو کہ تو روزہ سے ہے، اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے، تجھے اجر دے گا۔”
یہ تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ روزہ کسی کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ خدا کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے لیے رکھا جائے۔
مسیحی روزے صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل روحانی عمل ہے جو توبہ، دعا، خیرات اور نیکی کے کاموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدیم روایات میں، گناہگار ٹاٹ اوڑھ کر اپنی عاجزی کا اظہار کرتے تھے اور آج بھی مسیحی روزے توبہ اور خود احتسابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان روزوں کا مقصد نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی پاکیزگی حاصل کرنا اور خدا کے قریب جانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








