پہلے عورتوں پر تشدد کرواؤ پھر معذرت کرلو! پیپلز پارٹی کی حکومت کا دوغلا پن بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی پولیس نے منگل کے روز عورت مارچ سے وابستہ سات کارکنوں کو مختصر حراست کے بعد رہا کر دیا۔ یہ کارروائی سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی ہدایت پر عمل میں آئی جب کارکنان کو کراچی پریس کلب کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یہ کارکنان ایک پریس کانفرنس کے لیے جمع ہوئی تھیں جس کا مقصد کراچی میں ہونے والے سالانہ عورت مارچ کے لیے این او سی حاصل کرنے کا مطالبہ کرنا تھا۔ منتظمین کے مطابق رہا ہونے والوں میں شیما کرمانی اور شہزادی رائے بھی شامل تھیں جنہیں وزیر داخلہ کی ہدایت کے بعد جلد رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور این او سی کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ تنظیم نے گرفتاریوں کو اختلافِ رائے دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت سے وضاحت طلب کی کہ کارکنان کو کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا اور اجازت نامے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی چند منتظمین کو حراست میں لے لیا گیا اور پریس کلب تک رسائی بھی محدود کر دی گئی۔ بعد ازاں مزید کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا تاکہ وہ مقام تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تحریک کو دبانے کے لیے ریاستی وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

کارکنان نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب وہ کسی احتجاج میں شریک نہیں تھیں تو انہیں کس قانون کے تحت روکا گیا جبکہ ان کے مطابق دفعہ 144 کے باوجود پریس کلب کے اندر پریس کانفرنس کی اجازت ہوتی ہے۔

رواں سال کراچی میں عورت مارچ یومِ مادر کے موقع پر سی ویو پر منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکام کو درخواستیں دیں لیکن کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر آصفہ بھٹو زرداری کو بھی خط لکھا گیا۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر سماجی کارکنان نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ واقعہ محض ایک الگ واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں شہریوں کو اپنے حقوق کے اظہار کے لیے عوامی جگہوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔

کمیشن نے مزید کہا کہ پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حقوق ہیں، اور خواتین و دیگر کمزور طبقات کو ان سے محروم کرنا ایک سخت طرزِ حکمرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کی کارکن نگہت داد نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کی آواز دبانا ناقابل قبول ہے۔

اسی طرح وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ دفعہ 144 کے تحت پریس کلب تک رسائی کیسے روکی جا سکتی ہے اور پریس کانفرنس پر پابندی کس قانون کے تحت عائد کی گئی۔

ادھر عورت مارچ کی خواتین سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پولیس کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کا نامناسب سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد محکمہ داخلہ نے بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر زیر حراست خواتین کو رہا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کو سماجی کارکنوں کے خلاف اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے معاملات میں قانون کے مطابق محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا جہاں مختلف آراء سامنے آئیں۔

Related Posts