اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اقوامِ عالم کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے کوئی بھی مہم جوئی کرسکتا ہے جبکہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت مسلسل 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں پر شدید ظلم کر رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں ایک ماہ سے جیل کی سی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔سیاسی قیادت نظر بند ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کشمیری نہتے ہو کر بھی مسلح قابض بھارتی فوج کا سامنا کر رہے ہیں۔بھارت کے ہندوتوا نظرئیے کے خلاف کھڑے ہونا ہماری پالیسی ہے۔ خارجہ پالیسی کئی اداروں کی مدد سے بنائی جاتی ہے۔بہترین خارجہ پالیسی کی مدد سے پاکستان تنہائی سے نکل آیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اندرونی و بیرونی معاملات کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی جس میں ترجیحات کا تسلسل مدنظر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہری حکومت کے پاس لندن والے اختیارات ہوں تب بھی کراچی کا یہی حال ہوگا۔ مصطفٰی کمال
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورتحال خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی مظالم کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ، یورپی یونین، او آئی سی، اقوام متحدہ اور دیگر ادارے بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔ہم مسئلہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے مستقل اور پر امن حل چاہتے ہیں۔ ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر نریندر مودی کی حکومت میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کردئیے ہیں۔ اس کے علاوہ دو طرفہ تجارت اور سمجھوتہ ایکسپریس بھی مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے وزارتِ خارجہ سے زیادہ ایف اے ٹی ایف کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ملکی معیشت پر گہرے اثرات ہیں جبکہ بھارت پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ پر مختلف حربے آزما رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے لیے ترک وزیر خارجہ سمیت دیگر کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کا ارادہ رکھتا ہوں۔
افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کے قوی امکانات ہیں۔ آج دُنیا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے افغانستان کے متعلق مؤقف کو درست تسلیم کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام پر بھارتی حکومت اور اپوزیشن خود متحد نہیں ہیں جبکہ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستانی قوم ہم زبان ہے۔
وزیر خارجہ نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کے دوران کہا کہ کشمیر کے اہم معاملے پر پاکستانی حزبِ اختلاف نے کھلے دل کا مظاہرہ کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میری قوم کسی طرح بھی مایوس نہیں ہوسکتی۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام پر بھارت خود متحد نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








