ایشیا کپ کیلئے منتخب ٹیم جیسی بھی ہے، اس کو بھرپور سپورٹ کرنا چاہئے، سابق کرکٹرز

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق کرکٹرز اظہار خیال کر رہے ہیں، فوٹو ایم ایم

سابق قومی کرکٹرز عبدالرزاق، کامران اکمل اور عمر گل نے ایشیا کپ کے تناظر میں قومی ٹیم کی کارکردگی اور کمزوریوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنے اور بہتر تیاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ زیادہ کھیلی جاتی تھی اور آج بھی ہمیں پاکستان ٹیم کو بھرپور سپورٹ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ اسکواڈ بہترین پرفارمرز پر مشتمل ہے اور ٹیم میں چار سے پانچ ہارڈ ہٹر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو پیغام مل چکا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے میچز جتوانے ہیں۔ عبدالرزاق نے مزید کہا کہ پوری ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ایک ساتھ پرفارم نہیں کرتے، لیکن ہمیں حارث کو اعتماد دینا ہوگا۔

کامران اکمل نے موجودہ بولنگ یونٹ پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کنڈیشنز کے مطابق بولنگ مکمل نہیں ہو رہی۔ اگر ان حالات میں اسپنرز نہیں کھیلیں گے تو اور کہاں موقع ملے گا؟ تین بولرز کے ساتھ میچ کھیلنا رسک ہے، اور افغان ٹیم نے ہمیں شکست دی جبکہ یو اے ای نے میچ گفٹ کیا۔ ان کے مطابق ایشیا کپ میں ایسی غلطیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

کامران اکمل نے مزید کہا کہ حارث کا اصل فائدہ ٹاپ تھری میں ہے، جبکہ صائم ایوب کو ابتدائی چار پانچ سال بیٹنگ پر فوکس کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی ان سے بولنگ کروائی جائے۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کو کاغذ پر مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواہش ہے پاکستان بھارت کو شکست دے لیکن اس کے لیے سخت محنت ضروری ہے۔

عمر گل نے بھی قومی ٹیم کی حمایت پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کی ٹیم بظاہر مضبوط نظر آ رہی ہے تاہم ٹی ٹوئنٹی میں ایک اچھی بیٹنگ یا بولنگ اسپیل سے بھی میچ جیتا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جتنے بڑے ٹورنامنٹ جیتے وہ زیادہ تر بولرز کی بدولت ہی جیتے، اس لیے ڈیتھ اوورز میں بولرز پر خصوصی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عمر گل کے مطابق فینز اس ایونٹ میں بابر اور رضوان کے ساتھ ساتھ ویرات کوہلی اور روہت شرما کو بھی مس کریں گے۔

تینوں سابق کرکٹرز نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ قومی ٹیم کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑی دباؤ سے نکل کر بہترین کارکردگی دکھا سکیں۔

Related Posts