اسلام آباد: لوک ورثہ کی سابق ڈائریکٹر اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فوزیہ سعید اربوں روپے کی جائیدادوں کی مالک نکلیں۔
ڈاکٹر فوزیہ سعید وفاقی دارالحکومت کے مہنگے اور پوش سیکٹرز میں اربوں روپے کے گھر، مہنگی ترین ہائوسنگ سوسائٹیوں میں متعدد پلاٹ، نامور یونیورسٹی کی مالک اور ایک بڑی جامعہ کی حصہ دار نکلیں۔
ذرائع کے مطابق موصوفہ بحریہ ٹائون فیز7میں ایک ایک کنال کے 3پلاٹ کی مالک ہیں،ان میں سے ایک پلاٹ کا نمبر1761 ، دوسرے پلاٹ کا نمبر 1762ہے جبکہ انہوں نے اپنے بھائی سے تیسرا پلاٹ بھی خرید رکھا ہے جس کا نمبر1760ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پلاٹوں کی قیمت اربوں روپے ہے، اسی طرح ڈاکٹر فوزیہ سعید پرسٹن یونیورسٹی کے لاہور اور اسلام آباد کے کیمپس کی مالک ہیں جبکہ لمز یونیورسٹی کی حصہ دار ہیں ۔

علاوہ ازیں موصوفہ نے مہر گڑھ کے نواح میرا بھگوال میں 50کنال اراضی بمعہ عمارات کی بھی مالک ہیں جبکہ F7/4کی گلی نمبر 55میں گھر نمبر26Aڈاکٹرفوزیہ سعید کی ملکیت میں ہے جسکی قیمت کروڑوں روپے ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فوزیہ سعید نے یہ گھر امریکی منصوبہ Autaq کیلئے کرائے پر دیا ہواہے، علاوہ ازیں موصوفہ یو این ڈی پی جینڈر ایڈوائزر کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








