کراچی : ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے ریسٹورنٹس میں ڈائننگ پر پابندی کے حوالے سے گہری تشویش کے ساتھ کہا ہے کہ ریسٹورنٹس انڈسٹری کو حکومتی مدد اور سہولت کی اشد ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جبری طور پر اس کا کام بند کرنے کی وجہ سے اس کی سیلز اور محصولات کا تقریبا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ چیئرمین آل پاکستان ریسٹورانٹ ایسوسی ایشن بابر نہال نے کہا ہے کہ ریسٹورنٹس کے ذریعہ کورونا پھیلانا اس لیئے ممکن نہیں ہے کہ ریسٹورنٹس کی صنعت کو انتہائی سخت ایس او پیز کے تحت صرف 50 بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ ہی کام کرنے کی اجازت ملی تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ریسٹورنٹس کی صنعت اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ ڈائننگ کی خدمات کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور ختم ہو سکتی ہے۔
کنوینر ایف پی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریسٹورنٹس وقاص عظیم نے کہا ہے کہ حکومت نے ابھی تک ملک کی ریسٹورنٹس کی صنعت کو کوئی ریلیف یا مدد فراہم نہیں کی ہے۔
اس کے بجائے بڑے پیمانے پر یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ ایس او پیز کے نفاذ کے نام پر مختلف ڈیپارٹمنٹس ریسٹورنٹس سے رشوت کے ذریعے رقم وصول کررہے ہیں جو ان کو دوہرا نقصان پہنچا رہا ہے۔
میاں ناصر حیات مگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی پابندی کا اعلان کرنے اور زبردستی کرنے سے پہلے ایک مشاورتی عمل کے ذریعے ریسٹورنٹ انڈسٹری کے مالکان اور اسٹیک ہولڈرز سے معلومات اور تجاویز لی جائیں اور ریسٹورنٹس میں ڈائننگ کی سروسز کو فی الفور بلا کسی بھی تاخیر کے کھولا جائے۔