فرانس کے متنازع خاکے شائع کرنے والے میگزین ’چارلی ایبڈو‘ نے تمام حدیں پارکردیں، جریدے نے ایک طنزیہ کارٹون میں ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرین کا مذاق اڑایا ہے۔
قدرتی آفات سے ہزاروں اموات جیسے معاملے پراتنی بےحسی دکھانے کے خلاف جریدے کو عالمی سطح پر کڑی تنیقد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس اقدام کی سخت مذمت بھی کی جارہی ہے۔
نسل پرستانہ خاکوں کے لیے بدنام زمانہ جریدے نے ترکیہ اورشام میں آنے والے ہولناک زلزلے کے چند گھنٹے کے بعد ٹوئٹراکاؤنٹ پر’کارٹون آف دی ڈے’ شیئرکیا تھا جس میں تباہ شدہ عمارتیں ، الٹی ہوئی کاراورملبہ دکھاتے ہوئے کیپشن میں لکھا گیا تھا، ترکیہ میں زلزلے،اب ٹینک بھیجنے کی ضرورت نہیں۔
✏️Le dessin du jour, par #Juin pic.twitter.com/kPcEqZDocO
— Charlie Hebdo (@Charlie_Hebdo_) February 6, 2023
فرانسیسی میگزین کی جانب سے اس کارٹون کو شائع کرنے کے بعد سوشل میڈیا پرشدید ردعمل دیکھنے میں آیا، عام صارفین سمیت معروف شخصیات نے بھی فرانسیسی جریدے کے اس مذموم فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسلاموفوبیا‘ کا شاخسانہ قراردیا۔
رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے ایڈوائزری بورڈ میں پاکستانی صحافی ظفر عباس بھی شامل
یونانی خاکہ نویس نے طنزومزاح کی آڑ میں دنیا میں نفرت پھیلانے والے اس کارٹون پر منہ توڑ جواب دیا۔
یونانی روزنامہ کیتھی میرینی میں دیمتری ہاندزوپولوس کے بنائے خاکہ کے کیپشن میں لکھا کہ ”ہم سب ترک ہیں“۔

ترک صدرکے ترجمان ابراہیم کالین نے بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس کارٹون کی اشاعت پر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ، جدید وحشی! اپنے غصے اورنفرت میں ڈوب جاؤ۔
ترک سیاستدان اورحکمران آق پارٹی کے لندن میں نمائندے عبدالرحیم بوینوکالین نے کہا کہ تنازعات پیدا کرنے کیلئے چارلی ایبڈو کی کوئی حد نہیں ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کی سابق وفاقی وزیرشیریں مزاری نے لکھا کہ نفرت اوراسلاموفوبیا اپنے عروج پر ہے ۔ قدرتی آفت پرچارلی ایبڈوکی طرف سے اس طرح کا ردعمل ظاہر ہوتا ہے، ہمیں بیماریورپ سے مذمت کی آوازیں سننے کا انتظار ہے۔
قبل ازیں عرب نیوز نے ایک رپورٹ بھی پیش کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ چارلی ایبڈوکے ٹوئٹراکاؤنٹ پرشیئرکیے جانے والے کارٹونزمیں اسلاموفوبیا کا جائزہ“ کے عنوان سے 2018 میں ایک تحقیق کی گئی تھی جس میں 13 اگست 2009 سے 15 اکتوبر2018 تک شائع شدہ خاکوں کا تجزیہ کیا گیا تھا جس کے مطابق 6123 میں سے 38 ٹویٹس مسلم مخالف نوعیت کی تھیں جن میں اوراسلام کو ایک ایسے مذہب کے طورپرپیش کیا گیا جو انحراف اوردہشتگردی سے وابستہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








