کراچی: کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے احکامات کی دھجیاں بکھرتے ہوئے عوام کو سحر و افطار کے وقت بجلی اور گیس کی بندش کے مسئلے سے دوچار کردیا۔
سوی سدرن گیس کمپنی نے دعوے کیے تھے کہ رمضان میں سحری اور افطار کے وقت گیس کی فراہمی بلاتعطل ہوگی لیکن پہلا ہی روز ان کے وعدوں کی قلعی کھول گیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں گیس مکمل غائب رہی اور شہریوں کو کھانے کے لیے ہوٹلوں اور ڈھابوں کا رخ کرنا پڑا۔
کراچی میں رفا ع عام سوسائٹی، قیوم آباد، ملیر، ناظم آباد، گلبہار اور رنچھوڑ لائن سمیت کئی علاقوں کے رہائشی سحری کے وقت گیس کے لیے ترستے رہے۔
شہریوں کا کہنا کہ یہ وہی شہر ہے جہاں کمشنر کراچی نے “سخت احکامات” جاری کیے تھے کہ رمضان میں بجلی اور گیس کی سپلائی یقینی بنائی جائے گی لیکن کیا ہوا؟ عوام کے صبر کا امتحان لیا گیا جبکہ حکام خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور ادارے صرف نوٹیفکیشن جاری کرکے اپنی “ذمہ داری” پوری سمجھ لیتے ہیں جبکہ عملی اقدامات کا حال سب کے سامنے ہے۔ کمشنر کراچی نے خط لکھ کر تو اپنی “ذمہ داری” نبھا دی، مگر کیا یہ احکامات کسی نے سنے؟ کیا کسی نے عملدرآمد کو یقینی بنایا؟
سوی سدرن گیس کمپنی نے رمضان کے لیے گیس لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری کیا، جس کے مطابق صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک اور رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔
گویا عوام سے واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ سحری اور رات کے کھانے کے بعد اگر آپ کو گیس چاہیے، تو بھول جائیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کمشنر کراچی واقعی سنجیدہ ہوتے تو وہ گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کرتے، نہ کہ صرف ایک کاغذی خط پر اکتفا کرتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








