قطر میں ورلڈکپ کے دوران ہم جنس پرستوں کو داخلے کی اجازت، مگر شرائط کیساتھ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

قطر میں ورلڈکپ کے دوران ہم جنس پرستوں کو داخلے کی اجازت، مگر شرائط کیساتھ؟
قطر میں ورلڈکپ کے دوران ہم جنس پرستوں کو داخلے کی اجازت، مگر شرائط کیساتھ؟

فیفا ورلڈکپ 2022 کے آغاز میں اب صرف ایک دن باقی رہ گئے ہیں، عالمی ایونٹ قطر میں 20 نومبر سے 18 دسمبر تک کھیلا جائے گا، جس کیلئے میزبان ٹیم قطر سمیت کل 32 ٹیمیں اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرچکی ہیں، جو کہ مشرق وسطیٰ میں پہلی بار فٹ بال کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا۔

دنیا بھر کے اربوں شائقین اس ایونٹ کی پیروی کرتے ہیں اور بے صبری سے فٹ بال کے ورلڈکپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں، اِس ایونٹ میں شرکت کرنے کیلئے شائقین بڑی تعداد میں دنیا بھر سے شرکت کرتے ہیں اور اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہم جنس پرست ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ قطر میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے، اس کی سزا تین سال کی قید اور بعض صورتوں میں سزائے موت بھی ہے۔ قطر کے سخت قوانین کو دیکھتے ہوئے فٹ بال کے ہم جنس پرست شائقین شدید مشکل تھے، اُن کی مشکل کو دیکھتے ہوئے بعض اداروں کی جانب سے انتظامیہ سے درخواست کی گئی تھی کہ ورلڈکپ کے دوران شائقین پر اِس قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی جائے۔

رپورٹس کے مطابق ہم جنس پرست فٹ بال شائقین کی نمائندگی کرنے والے متعدد گروپس کی جانب سےفیفا سے ہم جنس پرستوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ہم جنس پرستوں کو تحفظ دینے کیلئے معروفLGBTQIA+ تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ قطر میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اُن کو خصوصی سہولیات دی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ 2022، ورلڈکپ کے دوران اسٹیڈیمز میں شراب کی فروخت پر پابندی

اِن مطالبات کو دیکھتے ہوئے فیفا نے گزشتہ ماہ ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ قطر کے ہوٹلز اپنے مہمانوں کا بلا تفریق استقبال کریں ورنہ اس کے نتیجے میں معاہدہ ختم ہوجائے گا، جس کے بعد ہوٹلوں سے رجوع کیا گیا اوراُن سے کہا گیا کہ وہ ہم جنس پرستوں کے داخلے پر پابندی نہیں لگائیں گے، جس کے جواب میں کُل 69 ہوٹلوں میں سے صرف 3 ہوٹل ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہوٹل میں ہم جنس پرستوں کو داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بعدازاں ہوٹلوں میں سے 20 ہوٹل ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ ہم رہائش کی اجازت دیں گے لیکن ایک شرط ہے کہ جوڑے عوامی طور پریہ ظاہر نہیں کرینگے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں جبکہ دیگر ہوٹلوں میں ہم جنس پرستوں پر کسی قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی۔

تاہم ، قطر کے اس اقدام کے بعد بھی بعض ہم جنس پرست تحفظات کا شکار ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عالمی ایونٹ میں شرکت کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے۔

Related Posts