امریکا، آسٹریلیا اور تائیوان سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے مشترکہ کاوشوں سے ایسے مچھر تیار کرلیے ہیں جو ڈینگی وائرس سے متاثر نہیں ہوسکیں گے۔
جدید جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ڈینگی پھیلانے والے مچھروں میں ایک خاص طرح کی اینٹی باڈی (ضد جسمیہ) بنانے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہےجس کی بدولت یہ مچھر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ڈینگی وائرس نہ تو انہیں متاثر کرسکتے ہیں، نہ ان میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مچھر ڈینگی کے پھیلاؤکا باعث نہیں بنیں گے اور نہ ہی ان کے ذریعے دوسرے مچھروں اور انسانوں تک پھیل سکتے ہیں۔
ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کے جینیاتی ترمیم شدہ مچھروں کی بڑی تعداد تیار کرکےان سے ڈینگی وائرس اور اس سے لاحق ہونے والے ڈینگی بخار کا پھیلاؤکو روکا جاسکے گا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں ہر سال اندازاً 39 کروڑ افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیںجن میں سے صرف 9 کروڑ 60 لاکھ لوگوں ہی کو اسپتال یا طبّی مرکز لا کر ڈینگی کی تشخیص کروائی جاتی ہےجن میں سے بھی لگ بھگ 10 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ڈینگی کی وبا 2006ء سے پاکستان میںلاتعداد اموات کی ذمہ دار ہےہے لیکن اسے قابو کرنے کی موجودہ حکومتی کوششیں بہت ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ اگرچہ درمیان میں کچھ سال تک ڈینگی کی سالانہ وبا کی شدت خاصی کم رہی لیکن گزشتہ سال اس میں بہت شدت دیکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اور خیبر پختونخواہ میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








