حکومت پنجاب نے اپنا کھیت، اپنا روزگار اسکیم کے تحت زرعی اراضی کی الاٹمنٹ کے لیے نئی پالیسی اور قواعد وضوابط حتمی شکل دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بے زمین کسانوں اور دیہی علاقوں کے مستحق افراد کو خود روزگار کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت سرکاری زرعی زمین ایک ہزار روپے سالانہ کرائے پر دس سال کی لیز پر دی جائے گی۔ ہر اہل فرد کو پانچ ایکڑ تک زمین الاٹ کی جا سکے گی لیکن یہ صرف کاشتکاری کے لیے ہوگی۔ رہائشی یا کمرشل مقاصد کے لیے اس زمین کا استعمال بالکل ممنوع ہوگا۔
اہم شرائط اور پابندیاں:
الاٹی کو خود ہی کاشتکاری کرنی ہوگی وہ زمین کو کوئی دوسرا شخص نہیں دے سکتا۔
الاٹی کو کوئی ملکیتی حقوق نہیں ملیں گے یہ صرف لیز پر ہوگی۔
لیز کی مدت مکمل ہونے پر زمین حکومت کو واپس کرنی ہوگی۔
اگر چھ ماہ تک کرایہ ادا نہ کیا گیا تو لیز فوراً منسوخ کر دی جائے گی۔
کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت بغیر کسی معاوضے کے زمین واپس لے سکے گی۔
درخواست کا طریقہ کار:
درخواستیں آن لائن PLRA پورٹل اور متعلقہ ریونیو دفاتر کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ الاٹمنٹ کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ (ڈرا) کے ذریعے ہوگی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ کامیاب درخواست گزاروں کو ترقیاتی گرانٹ بھی دی جائے گی تاکہ وہ فوری طور پر کاشتکاری شروع کر سکیں۔
اہلیت کے معیار:
ایک خاندان سے صرف ایک فرد ہی اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکے گا۔
سرکاری ملازمین اور پہلے سے کسی دوسری ایسی اسکیم سے مستفید افراد نااہل قرار دیے جائیں گے۔
یہ اسکیم پنجاب کے بے زمین کسانوں اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ایک اہم قدم ہے جس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور زرعی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








