بجٹ کے ثمرات، یکم جولائی سے گھی اور خوردنی تیل 18 روپےکلو مزید مہنگا

تازہ ترین

تازہ ترین

Govt approves 10% tax rebate on edible oil’s import

اسلام آباد :ملک میں یکم جولائی سے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 13 سے 18 روپے فی کلو اضافہ ہوجائے گا،پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو پیشگی آگاہ کردیا۔

گھی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ فنانس بل 22-2021میں نئے ٹیکسز کا نفاذ ہے۔ اس حوالے سے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو پیشگی آگاہ کردیا ہے کہ قیمتیں بڑھیں گی۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے خط کے متن میں کہا گیا کہ اگر ٹیکسز واپس نہ لیے گئے تو پھر یکم جولائی سے گھی اور تیل 13 سے 18 روپے تک مہنگا ہوجائے گا جس سے عام طبقہ متاثر ہوگا۔پاکستان وناسپتی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ معاملہ خزانہ کمیٹی میں بھی اٹھایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کی ہڑتال، پٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ

کمیٹی نے پی وی ایم اے کو وزارت خزانہ کے حکام سے معاملات حل کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم پی وی ایم اے کی سیکریٹری خزانہ سے ملاقات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی جس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے خط وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو لکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹرن اوور ٹیکس اور چوکر پرسیلز ٹیکس کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال کے باعث سپلائی بند کردی گئی ہے جس کے باعث آٹے کا بحران پیدا ہونے اورقیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

شیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن چوہدری محمد یوسف نے مزید کہا کہ ملک میں کبھی بھی چوکر پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا گیا لیکن رواں بجٹ میں چوکر پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہونے سے آٹے کی قیمت میں 5 روپے فی کلو اضافہ ہوجائے گا۔

Related Posts