پشاور میں سائبر کرائم ایجنسی نے ایک کارروائی کے دوران یاجوج ماجوج ملا کے نام سے فیس بک اکاؤنٹ چلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق گرفتار ملزم ابرار حسین کا تعلق پاراچنار سے ہے جس پر الزام ہے کہ وہ کرم میں فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے میں ملوث تھا۔
تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ ڈاکٹر سید محمد ثقلین ولد سید یوسف حسین نے این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر پشاور میں درخواست جمع کروائی تھی۔اپنی شکایت میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہیں یاجوج ماجوج ملا نامی فیس بک اکاؤنٹ سے مسلسل دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے تھے جن میں بھتہ طلب کیا جا رہا تھا۔
شکایت کے مطابق ملزمان نے ان سے 6 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں ان کی قابلِ اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دی جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور انہیں خودکشی پر مجبور کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی نے درخواست موصول ہونے پر انکوائری کا آغاز کیا گیا۔ تفتیش کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ اول پشاور سے ڈیٹا ڈسکلوژر وارنٹس حاصل کیے گئے جنہیں فیس بک/میٹا کو ارسال کیا گیا تاکہ متعلقہ اکاؤنٹ کی سبسکرائبر معلومات اور آئی پی لاگز حاصل کیے جا سکیں۔
عدالتی احکامات کے بعد فیس بک انتظامیہ نے یاجوج ماجوج ملا اکاؤنٹ سے متعلق بنیادی ڈیٹا اور آئی پی لاگز فراہم کیے جس کے ڈیٹا کے تجزیے سے تین موبائل نمبرز 03099454500، 03035030912 اور 03051111955 اس اکاؤنٹ سے منسلک پائے گئے۔
بعد ازاں متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں سے حاصل ریکارڈ کے مطابق:
موبائل نمبر 03051111955 عقیل حسین ولد ہدایت حسین کے نام پر رجسٹرڈ پایا گیا جو عالم شیر، تحصیل اپر کرم، پاراچنار کا رہائشی ہے۔
موبائل نمبر 03035030912 ہدایت حسین ولد زوار علی کے نام پر رجسٹرڈ تھا جو اسی علاقے عالم شیر، تحصیل اپر کرم، پاراچنار کا رہائشی ہے۔
موبائل نمبر 03099454500 ابراہیم حسین ولد مستان علی کے نام پر رجسٹرڈ نکلا جو آرمی کالونی، تحصیل اپر کرم، ضلع پاراچنار کا رہائشی ہے۔
مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ فیس بک اکاؤنٹ ایک انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے چلایا جا رہا تھا جو عباس علی ولد مستان علی کے نام پر رجسٹرڈ تھا اور وہ بھی آرمی کالونی تحصیل و ضلع پاراچنار کا رہائشی ہے۔
بعد ازاں تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ابراہیم حسین، مستان علی اور عقیل حسین کے ناموں کے سرچ وارنٹس بھی جوڈیشل مجسٹریٹ اول پشاور سے حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








