بھارت کے بہار صوبے میں زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپنے والی خواتین اور دیگر افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس نے سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت وہ تمام گاہک جن کا چہرہ کسی بھی وجہ سے ڈھکا ہوا ہوجیسے حجاب، نقاب، برقع، اسکارف، ماسک یا ہیلمٹ انہیں زیورات کی دکانوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ اپنا چہرہ ظاہر نہ کریں۔
یہ قدم آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ فیدریشن کے ایک صوبائی یونٹ کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جس نے اپنی رکن دکانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں کو خرید و فروخت کی سہولت فراہم نہ کریں جب تک ان کی شناخت واضح طور پر نہ ہو جائے۔
فیدریشن نے اس فیصلے کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتائی ہے خاص طور پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے اور زیورات کی دکانوں پر بڑھتی ہوئی چوری و ڈکیتی کے واقعات کے پیشِ نظر۔
بہار کے کئی شہروں میں دکانوں کے باہر نو انٹری یعنی داخلے کی ممانعت کے نوٹس چسپاں کیے گئے ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ چہرہ چھپانے والے افراد کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فیدریشن کے صدر اشوک کمار ورما نے وضاحت کی کہ یہ پابندی کسی خاص مذہب یا طبقے کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ تمام چہرہ ڈھانپنے والے افراد پر یکساں طور پر لاگو ہوگی تاکہ دکاندار اور گاہک دونوں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
اس اقدام نے سیاسی تنازع کو بھی ہوا دی ہے۔ بہار کی ایک اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے اس پابندی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ فیصلہ غیر آئینی اور مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ ان کا موقف ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر شہری حقوق اور مذہبی آزادی کو محدود کرنا آئین کے اصولوں کے منافی ہے اور اس طرح کے فیصلے سے سیکولر اور آئینی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اشوک کمار ورما نے مزید کہا کہ زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر آنے والے کچھ مشتبہ افراد نے پہلے بھی وارداتیں کی ہیں اور شناخت میں دشواری کی وجہ سے دکانداروں کو سیکیورٹی کا خدشہ لاحق ہے اس لیے یہ احتیاطی قدم اٹھایا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی گاہک کی توہین نہیں کی جائے گی اور کوئی جبراً حجاب یا نقاب اتارنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
یہ پابندی پورے بہار صوبے میں یکساں طور پر نافذ کی گئی ہے اور اسے 8 جنوری 2026 سے لاگو کیا گیا ہے۔ دکانداروں نے کہا ہے کہ اگرچہ اسے سیکیورٹی کے لیے بتایا گیا ہے، لیکن اس فیصلے کے سماجی اور مذہبی نتائج پر بھی گہرے سوالات اٹھ رہے ہیںخاص طور پر حجاب یا نقاب پہننے والی خواتین کی آزادی اور احترام کے تناظر میں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








