پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ اگر مالی سال2025-26میں بجلی کے شعبے پر سبسڈی کا حجم 1اعشاریہ 036 کھرب روپے سے تجاوز کرتا ہے تو جولائی 2025 سے بجلی کے نرخ سالانہ ری بیسنگ کے ذریعے بڑھائے جائیں گے۔
اس مجموعی سبسڈی میں وزیرِاعظم کے پیکیج کے تحت پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی سے فراہم کیے جانے والے 182 ارب روپے بھی شامل ہیں۔
آئی ایم ایف اور حکومت کا ہدف ہے کہ اس حد کے اندر رہتے ہوئے گردشی قرضے میں اضافے کو مکمل طور پر روکا جائے۔
اگر سبسڈی کی ضروریات بڑھتی ہیں تو انہیں مزید ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے پورا کیا جائے گاآئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں دی جانے والی کل سبسڈی کو جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ 8 فیصد تک محدود کر دیا ہے اور اس کو گردشی قرضے میں کمی اور نقصانات میں کمی کے اہداف سے مشروط کر دیا ہے۔
وزارت خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے بجٹ تخمینوں میں تبدیلی کی ہے، اور بجلی کے شعبے کے لیے سبسڈی کی حد 400 ارب روپے سے بڑھا کر 636اعشاریہ 1 ارب روپے کر دی گئی ہے۔
رواں مالی سال 2025 کے دوران مجموعی سبسڈی 1اعشاریہ 2 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجہ تحفظ یافتہ صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور گردشی قرضے کے بوجھ میں اضافہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








