وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز ملک بھر میں سستے گھروں کے فروغ کے لیے “مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم برائے افورڈیبل ہاؤسنگ فنانس” کی بعض شقوں میں ترامیم کی منظوری دے دی۔
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ترامیم اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے فیصلے اور بعد ازاں وفاقی کابینہ کی توثیق کے بعد کی گئی ہیں۔
نظرِ ثانی شدہ فریم ورک کے تحت اسکیم کے لیے اہلیت کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہ سہولت بدستور ایسے افراد کے لیے دستیاب رہے گی جو پہلی مرتبہ گھر خرید رہے ہوں، پاکستانی شہری ہوں، ان کے پاس درست قومی شناختی کارڈ (CNIC) موجود ہو اور ان کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ نہ ہو۔
اس اسکیم کے تحت گھر یا فلیٹ کی خریداری، پہلے سے ملکیت میں موجود پلاٹ پر گھر کی تعمیر، یا پلاٹ خرید کر اس پر گھر بنانے کے لیے فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق منظور شدہ رہائشی یونٹس میں 5 مرلہ تک کے مکانات اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹس یا اپارٹمنٹس شامل ہوں گے۔
اس اسکیم میں کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (HBFCL) سمیت مالیاتی ادارے حصہ لیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








