بلوچستان کی سرزمین میں بے تحاشا معدنی دولت دفن ہے، مگر پاکستان شاید اس کو سنبھالنے کیلئے ہنوز تیار نہیں ہے۔ پاکستان کی گولڈ مارکیٹ سے متعلق مسابقتی کمیشن نے اپنی تازہ ترین اسٹڈی میں سخت وارننگ جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کا بے ہنگم اور غیر منظم تجارتی نظام ریکو ڈک کے گولڈ پروجیکٹ کے فوائد کو ضائع کر سکتا ہے، جو تقریباً 74 ارب ڈالر کی آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسٹڈی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریکو ڈک 2028 سے سونے کی پیداوار شروع کر دے گا، جس کے ذخائر کا تخمینہ 1 کروڑ 70 لاکھ اونس سے زائد لگایا گیا ہے لیکن اس پروجیکٹ کے نگران ادارے نے ایک بڑا مسئلہ نمایاں کیا ہے، پاکستان کا سونے کا شعبہ اس وقت ’ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور زیادہ تر غیر رسمی ڈیلرز کے ہاتھ میں ہے جو حکومتی قواعد کی پابندی نہیں کرتے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر سونے کی ٹریکنگ اور سرٹیفکیشن کا کوئی موثر نظام نہ بنایا گیا تو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ یہ قومی دولت بلیک مارکیٹ میں غائب ہو جائے یا کم قیمت میں فروخت ہو کر ملکی معیشت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ضائع ہو جائے۔
اس خطرے سے بچنے کے لیے سی سی پی نے حکومت سے فوری طور پر ’پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی‘ (PGGA) قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ نیا ادارہ کان سے نکلنے والی پیداوار کی نگرانی کرے گا، اس بات کو یقینی بنائے گا کہ سونا باضابطہ معیشت میں شامل ہو اور اسمگلنگ کو روکے۔ سی سی پی نے واضح کیا کہ ہمارے پاس قوانین کو بہتر بنانے کے لیے بہت محدود وقت رہ گیا ہے، اس سے پہلے کہ کان عملی طور پر کام شروع کرے۔
اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سونے کی مارکیٹ بدستور درآمدات اور اسمگلنگ پر ہی انحصار کرتی رہے گی اور ایک تاریخی موقع ضائع ہو جائے گا کہ ہم عالمی جیولری ٹریڈ میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








