مظفرآباد: آزاد کشمیر کی حکومت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ریاست کے عوام، خصوصاً لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے شہریوں کو دو ماہ کا راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جمعہ کے روز قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ “لائن آف کنٹرول سے متصل 13 حلقوں میں دو ماہ کے راشن کے ذخیرے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔”
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر حکومت نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک ارب روپے کا خصوصی فنڈ قائم کیا ہے تاکہ ان 13 حلقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے کی مشینری کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقوں کی سڑکوں کو بہتر رکھا جا سکے اور آمدورفت جاری رہ سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پہلگام میں غیر ملکی سیاحوں پر دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی حکومت نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور پاکستان پر حملے کی دھمکی دے دی تھی۔
منگل کے روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی افواج کو “مکمل عملی آزادی” دینے کا اعلان کیا تاکہ وہ حملے کا جواب دے سکیں۔
پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس ایسے “قابل اعتماد شواہد” موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت جلد کسی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے جمعرات کے روز ایک ہزار سے زائد دینی مدارس کو دس دن کے لیے بند کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں، لائن آف کنٹرول پر حالات کی نگرانی اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے سماہنی کے علاقے میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
یہ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال رہے گا اور تمام متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔ وہاں تعینات عملہ سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی تمام معلومات کی تصدیق کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








