اسلام آباد: وفاقی حکومت نے منی بجٹ ایوان میں پیش کردیا، وزیر خزانہ شوکت ترین نے منی بجٹ اسمبلی میں پیش کیا اس دوران اپوزیشن نے ایوان میں شور شراباکیا اور وزیرخزانہ کی نشست کے سامنے احتجاج کیا۔
منی بجٹ میں غیرملکی ٹی وی سیریلزاورڈرامہ پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کی تجویزپیش کی گئی، 1000سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے ،پاورسیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے ،امپورٹڈ موبائل فونز پر 17 فیصد اضافی ٹیکس لگانے ،گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصد اضافے ،زیرو ریٹڈ انڈسٹری کی 6 آئٹمزپرجی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے ،امپورٹڈ دودھ، سائیکلوں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے اور59 امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر دی گئی جی ایس ٹی چھوٹ ختم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس ،پاور سیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس ،امپورٹڈ موبائل فونز پر 17 فیصد اضافی ٹیکس ،گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصد اضافے ،غیرملکی ٹی وی سیریلز اور ڈرامہ پر ایڈوانس ٹیکس اور1000سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ٹیکس کے ذریعے 350 ارب روپے ریونیو کے اقدامات کیے جائیں گے،زیروریٹڈ آئٹمز پرٹیکس چھوٹ ختم ہونے سےساڑھے 9ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، تازہ دودھ، گندم، دالوں پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، مرغی اور گوشت پر جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوگا، گنے اور چینی کے خام مل پر جی ایس ٹی نافذ نہیں ہوگا،درسی کتابوں اور اسٹیشنری پر سیلزٹیکس لاگو نہیں ہوگا، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کے پرزہ جات پر سیلز ٹیکس نہیں بڑھے گا، الیکٹرک وہیکلز کے پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس میں اضافہ نہیں ہوگا، خصوصی اقتصادی زونز کے پلانٹ اور مشینری پر ٹیکس نہیں لگےگا۔