حکومت بجلی کے ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں مجوزہ تبدیلیوں کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کم استعمال والے گھریلو صارفین، خاص طور پر وہ جو ماہانہ 200 یونٹس یا اس سے کم استعمال کرتے ہیں، پر مالی بوجھ میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس سلسلے میں وزارت بجلی کی درخواست کی سماعت مکمل کر لی ہے اور حتمی فیصلہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن کے اہلکاروں کے مطابق مجوزہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت صنعتی شعبے کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 4.04 روپے کی کمی ہوگی اور صنعت پر موجود 101 ارب روپے کے کراس سبسڈی کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم صارفین کے گروپس خبردار کرتے ہیں کہ صنعت کو ریلیف دینے کا بوجھ چھوٹے گھریلو صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
اس تجویز کے تحت مجموعی ٹیرف میں فکسڈ چارجز کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا جائے گا۔ پہلی بار فکسڈ چارجز ایسے گھریلو صارفین پر بھی لاگو کیے جائیں گے جو ماہانہ 300 یونٹس تک استعمال کرتے ہیں، جس میں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں صارفین شامل ہیں۔ پہلے یہ چارجز صرف ان نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو ہوتے تھے جو 300 یونٹس سے زیادہ استعمال کرتے تھے۔
حکومت نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے درج ذیل ماہانہ فکسڈ چارجز تجویز کیے ہیں:
-
100 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 200 روپے
-
200 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 300 روپے
نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے:
-
100 یونٹس تک 275 روپے
-
200 یونٹس تک 300 روپے
اسی دوران حکومت نے 400 سے 700 یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف میں 49 پیسے سے 1.53 روپے تک کمی اور 700 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والوں کے لیے فکسڈ چارجز میں کمی کی تجویز دی ہے۔ 5 کلوواٹ یا اس سے زیادہ لوڈ والے تجارتی صارفین اور صنعتی صارفین کو بھی فی یونٹ 5 روپے تک کی کمی سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








