حکومت نے چینی کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد پر تمام درآمدی ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
قومی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ چینی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسٹیئرنگ کمیٹی کا منعقد ہوا جس میں ملک میں چینی کی دستیابی، معیار، قیمتوں کے استحکام اور درآمدی طریقہ کار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں چینی کی ممکنہ قلت سے بچاؤ اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور مارکیٹ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اس کے ساتھ یہ بھی طے کیا گیا کہ چینی کی درآمد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت، معیار اور حکومتی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔
سستی اور معیاری چینی کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری درآمدی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس تناظر میں پہلے مرحلے میں 2 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے ٹینڈر جاری کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 1 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
اس سارے عمل کو سہل بنانے کے لیے حکومت نے چینی کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز معاف کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بعض شہروں میں چینی 200 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








