کراچی : قبرستانوں میں گورکنوں کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں ، قبروں سے مردوں کی باقیات نکال کر ہزاروں روپوں کے عوض نئی میت کی تدفین کر کے پہلے سے تدفین شدہ میتوں کی بے حرمتی عام ہوگئی ۔
لانڈھی اسماعیل گوٹھ قبرستان کے گورکن کے خلاف مردہ کی باقیات نکال کر قبر بیچنے پرتھانہ شرافی گوٹھ میں جمعہ کی شب مقدمہ نمبر 219/2021درج کر لیا گیا ۔
مرحوم افضل خان ولد مصطفیٰ خان کی تدفین 5 مئی 2007 میں لانڈھی نمبر 2 اسماعیل گوٹھ قبرستان میں ہوئی تھی،مرحوم کے صاحبزادے عالم خان نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے لانڈھی میں رہائش پذیر تھالیکن کچھ عرصہ پہلے بفر زون میں رہائش اختیار کر لی تھی ۔
عالم خان نے بتایا کہ عید کے دوسرے روز میں لانڈھی والے گھر آیا تومیںنے والد کی قبر پر حاضری دینے گیا ، مگر وہاں جا کر دیکھا کہ ہم 14 سال سے جس قبل پر فاتحہ خوانی کرتے تھے اور دیکھ بھال کرتے تھے وہ کھدی ہوئی ہے اور اس پر موجود مٹی اور سلیپ ہٹائے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:راولپنڈی پولیس نے 5 دن شہری کو حراست میں رکھ کر جھوٹے مقدمہ میں نام ڈال دیا
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب گورکن کو بلوایا تو اس نے کہا کہ غلطی سے یہ والی قبر ٹھیکیدار نے کھول دی وہ دوسری قبر کھولنا تھا ، اس دوران کوئی اصلی گورکن یہاں نہیں آیا ، ہم نے فوری طور پر متعلقہ تھانہ شرافی گوٹھ میں پہلے واقعہ کی درخواست جمع کرائی پھر جمعہ کو رات گئے قبرستان سے قبر کھودنے کے خلاف مقدمہ درج کرادیا جس میں ملزم قبرستان کے ٹھیکیدار کو نامزد کرایا ہے۔
عالم خان نے کہا کہ یہ معیوب حرکت ہے ،گورکن کسی کی بھی قبر کھول دیتے ہیں اور اس میں سے باقیات اٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دیتے ہیں اور اسی تیار قبر میں نئ میت کی تدفین کر کے15 سے 20 ہزارروپے وصول کر رہے ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








