یونان میں تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب جانے کے باعث درجنوں پاکستانیوں کے انتقال پر آج سبز ہلالی پرچم سرنگوں رہے گا، ملک بھر میں یومِ سوگ منایا جارہا ہے۔
14 جون بدھ کی شب یونان کے ساحل پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جب اچھے مستقبل کی تلاش میں یونان کے راستے یورپ جانے والی کشتی سمندر میں ڈوب گئی، کشتی میں 750 افراد سوار تھے جن کا تعلق پاکستان، شام، مصر اور فلسطین سے تھا۔
رپورٹس کے مطابق کشتی حادثے میں 500 سے زائد افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 298 پاکستانی ہلاک ہوئے۔ متاثرین کی اکثریت یعنی 135 پاکستانیوں کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔
اس حادثے میں 104 افراد زندہ بچ گئے ہیں اور 78 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ زندہ بچ جانے والوں میں 12 پاکستانی بھی شامل ہیں۔
یوم سوگ
وزیر اعظم شہباز شریف نے یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے المناک واقعے پر ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اہم عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور متاثرین کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے یونان کے ساحل پر کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیر اعظم نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ تنگ کرنے کا حکم دے دیا اور گھناؤنے جرم میں ملوث ایجنٹس کو قرارواقعی سزا دینے کی ہدایت کی۔
واقعے کے باعث دیارِ غیر میں روزگار کی امید لیے درجنوں پاکستانی منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یونان میں کشتی اُلٹنے کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کیخلاف کریک ڈاؤن
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث اور نوجوانوں کو خطرناک سفر پر آمادہ کرنے والے ایجنٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
ایجنسی نے پنجاب کے شیخوپورہ میں لوگوں کو بیرون ملک بھیجنے میں ملوث ایک اہم انسانی اسمگلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔گرفتار اسمگلرنے فاروق آباد کے رہائشی سے 65 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
گجرات کے آزاد جموں میں کم از کم 10 مبینہ انسانی سمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنسیاں گوجرانوالہ، گجرات اور ساہیوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں موجود ہیں۔
کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟
یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے افسوسناک حادثے میں پاکستانیوں کی زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یونان کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی کے بچ جانے والے مسافروں نے کوسٹ گارڈز سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستانی مسافروں کو کشتی کے نچلے حصے میں جانے پر مجبور کیا گیا جبکہ دوسری قومیت والوں کو کشتی کے اوپری حصے میں جانے کی اجازت تھی۔
مسافروں نے کوسٹ گارڈز کو بتایا کہ کشتی کے اوپری حصے کے مسافروں کے بچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، کشتی کے نچلے حصے سے پاکستانی اوپر آنا چاہتے تو ان سے بدسلوکی کی جاتی، خواتین اور بچوں کو بظاہر مردوں کی موجودگی کے سبب بند جگہ پر رکھا گیا تھا۔
بچ جانے والے مسافروں نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈوبنے سے پہلے ہی پانی کی عدم دستیابی پر کشتی میں 6 اموات ہوچکی تھیں، کشتی ڈوبنے سے تین روز پہلے کشتی کا انجن بھی فیل ہو گیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق کشتی میں 100 سے زیادہ بچے موجود ہونے کا بتایا گیا ہے لیکن بچ جانے والے مسافروں میں کسی خاتون یا بچے کے شامل ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق کشتی کے ڈوبنے والوں میں تقریباً 300 پاکستانی ہیں جبکہ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے اندازے کے مطابق کشتی پر 400 پاکستانی تھے جن میں سے صرف 12 زندہ بچے ہیں۔
کیا اس واقعے کے ذمہ دار یونانی کوسٹ گارڈز ہیں؟
کچھ ایسی رپورٹس سامنے آرہی ہیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا تھا جبکہ یونانی حکومت کا کہنا ہے کہ جہاز سے مدد کی کوئی درخواست نہیں بھیجی گئی کیونکہ مسافروں نے اٹلی کو اپنی منزل کے طور پر مقرر کیا تھا۔
بتایا گیا کہ کشتی پر سوار کچھ مسافروں نے بچائے جانے کی درخواست کی تھی، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ آیا ان کی درخواستوں کو عملے نے یونانی کوسٹ گارڈ کو بھیج دیا تھا۔
ایک اور تنازعہ یہ بھی ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو بچانے کیلئے اس کے اردگرد رسی باندھی جس کی وجہ سے کشتی ڈوب گئی۔ کوسٹ گارڈ نے ابتدائی طور پر اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے رسی کا استعمال کیا تھا اور کہا کہ وہ کشتی سے کافی فاصلے پر تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی کشتی سے اب بھی 500 افراد لاپتہ ہیں۔ کل 104 مسافروں کو بچا کر یونان کے کالاماتا روانہ کر دیا گیا۔
ہیلینک کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ اب تک بچائے گئے لوگوں میں 43 مصری، 47 شامی شہری، 12 پاکستانی شہری اور دو فلسطینی شامل ہیں،بچائے گئے افراد میں سے آٹھ نابالغ تھے۔
واضح رہے کہ سیاسی بحران اور معاشی بحران ہرسال ہزاروں پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ بنیادی طور پر مشرقی پنجاب اور شمال مغربی خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نوجوان غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کے لیے اکثر ایران، لیبیا، ترکی اور یونان کے راستے استعمال کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








