گوا پولیس نے بیچ بیلٹ میں واقع دو وائن شاپ کے مالکان کو گرفتار کرلیا ہے جن کی دکانوں پر ایل ای ڈی سائن بورڈز پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ چل رہا تھا۔پولیس نے بگا میں واقع ریوائیو ہیئر کٹنگ سیلون اور ارپورہ میں واقع وِسکی پیڈیا کے ایل ای ڈی بورڈز کو کاٹ دیا اور مالکان کے خلاف بھارتیہ نئیائے سنہیتا (بی این ایس) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا کیونکہ یہ عمل بھارت کی وحدت، سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کا ہے۔
وزیر اعلیٰ پراموڈ سوانت نے کہاکہ یہ بورڈز بغیر اجازت لگائے گئے تھے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کر لی ہے۔
انجونا پولیس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ملزمان نے جان بوجھ کر اپنی دکان وِسکی پیڈیا پر ایل ای ڈی بورڈ پر اسکرولنگ ٹیکسٹ میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ دکھایا جس سے مقامی لوگوں میں خوف، غصہ اور اشتعال پھیلا اور عوامی سطح پر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ یہ باغیانہ اور قوم مخالف پیغامات انٹرنیٹ یا کمپیوٹر سسٹم سے جڑے الیکٹرانک آلات کے ذریعے پھیلائے گئے۔
🇮🇳 A wine shop owned by an Indian Army Major General in Goa got hacked — the signboard was changed to say “Pakistan Zindabad.”
– Locals panicked after seeing it,
“Pak Hack Division” has claimed responsibility. pic.twitter.com/v8EqMSRIOE— Zard si Gana (@ZardSi) November 6, 2025
کلانگوت پولیس کا کہنا ہے کہ ریوائیو ہیئر کٹنگ سیلون کے سائن بورڈ پر دکھائے جانے والا مواد ملک کے خلاف نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈا کے مترادف ہے۔
ارپورہ کے مقامی لوگوں نے منگل کی رات دیر گئے وِسکی پیڈیا کے ایل ای ڈی بورڈ پر پاکستان زندہ باد دیکھنے کے بعد پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کر لیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ارپورہ کے سرپنچ روہن ریڈکر نے بتایا کہ دکان کے عملے نے بورڈ بند کرنے کی درخواست پر بدتمیزی کی جس سے لوگ مزید غصے میں آ گئے۔ پولیس کی کارروائی کے بعد صورتحال معمول پر لوٹ آئی۔
وِسکی پیڈیا سے گرفتار ہونے والے ملزمان میں ہریانہ سے رنچٹ بھاٹیا اور وِپن پہوجا، کرناٹک سے ونای چندرا راؤ اور کرشنا لمنی، اور بہار سے منوج کمار شامل ہیں جبکہ ریوائیو ہیئر کٹنگ سیلون سے اتر پردیش سے محمد فرمان اور محمد شاویز، دہلی سے نوشاد قاسم، اور کلانگوت سے رکش داس کو گرفتار کیا گیا۔
کلانگوت کے ایم ایل اے مائیکل لوبو نے مقامی لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور کہاکہ کوئی بھی قانون ہاتھ میں نہ لے۔ پولیس مکمل کارروائی کرے گی۔
ایک پولیس ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بورڈز کو چینی ایپس سے آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے اور ہیکرز کا پتہ لگانا مشکل ہوگا۔
ارپورہ سرپنچ ریڈکر نے کہا کہ جمعرات کو ایمرجنسی میٹنگ بلائی جائے گی اور وائن کی دکان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ بورڈ ہیک ہوا ہو تب بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ مجرم کا پتہ چلے۔ گوا ایک پرامن ریاست ہے یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








