حماس کا غزہ کا کنٹرول چھوڑنے کا فیصلہ؟ حکمرانی آزاد ٹیکنوکریٹک باڈی کو دینے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں موجودہ انتظامی اور حکومتی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی جانب سے غزہ کے تمام سرکاری اداروں اور محکموں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اختیارات ایک آزاد اور غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کو منتقل کرنے کی تیاری مکمل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حتمی اور سنجیدہ ہے اور اس کا مقصد نئی انتظامیہ کو مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حماس کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے جس پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے میں عرب ممالک، ترکیہ اور امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں انہوں نے غزہ کے لیے ایک بین الاقوامی سطح کے بورڈ آف پیس (Board of Peace) کے قیام کی تجویز دی تھی۔

حماس کے مطابق مجوزہ ٹیکنوکریٹک باڈی غیر سیاسی ماہرین اور آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہوگی جس کا بنیادی مقصد غزہ میں عبوری انتظامی نظام کو سنبھالنا ہوگا۔ یاد رہے کہ مختلف فلسطینی دھڑوں نے 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایسی ایک عارضی انتظامی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل حماس کے سیاسی شعبے کے عہدیدار باسم نعیم بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ جب تک غزہ میں ایک مکمل بااختیار فلسطینی حکومت قائم نہیں ہو جاتی حماس اقتدار سے علیحدگی اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل کب مکمل ہوگا اور نئی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ارکان کے نام بھی سامنے نہیں آئے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل اور امریکہ کی منظوری، حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ اور بین الاقوامی ضمانتوں جیسے نکات پر بھی تاحال مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ بورڈ آف پیس اس پورے عمل کی نگرانی کرے گا جس میں حماس کے غیر مسلح ہونے، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہوں گے۔

یہ اعلان غزہ میں دو سالہ شدید جنگ کے بعد ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت جنگ بندی کا پہلا مرحلہ جاری ہے جبکہ آخری اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔

Related Posts