امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو دھمکی دیتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولنے کی دھمکی دی تھی، جس کے چند روز بعد 19 مارچ کو اسرائیل نے معاہدہ توڑ کر غزہ پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جو تاحال جاری ہیں۔
فلسطینی مجاہدین نے ٹرمپ کی اس دھمکی “جہنم کے دورازے کھولنے” کے نام سے قابض فوج کے خلاف آج کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کا نام “آپریشن ابواب الجحیم” (جہنم کے دروازے) رکھا گیا ہے۔
اس آپریشن کے تحت آج پہلے روز ہی دو بڑی کارروائیاں کی گئیں۔ پہلی کارروائی میں حماس کے عسکری ونگ عز الدین القسام بریگیڈ نے قابض صہیونی فوج کی ایک پیدل گشتی ٹیم کو، جس میں 10 فوجی اور 2 فوجی کتے شامل تھے، بارودی سرنگوں سے مزین اور تیار شدہ ایک گھات میں پھنسا دیا۔ جیسے ہی یہ فورس رفح شہر کے مشرق میں واقع مفترق المشروع کے قریب گھات کے مقام پر پہنچی، تو اسے بارودی سرنگوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔
مقامی ابلاغی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے بعد علاقے میں عینی شاہدین نے اسرائیلی ہیلی کاپٹرز کی لینڈنگ کو بھی ملاحظہ کیا جو زخمیوں اور لاشوں کی منتقلی کے لیے آئے تھے، جبکہ جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔
“ابواب الجحیم” کے تحت دوسری کارروائی بھی رفح شہر میں سر انجام دی گئی۔ جس میں آپریشن اب بھی جاری ہے۔ رفح شہر کے مشرق میں جاری جھڑپوں کے دوران قسام نے قابض اسرائیلی افواج کی ایک یونٹ جو ایک گھر میں مورچہ زن تھی، اُسے دو “TBG” راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کئی صہیونی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد فلسطینی مجاہدین نے دوبارہ پیش قدمی کرتے ہوئے اسی گھر میں موجود باقی فوجیوں کو نزدیک سے ہلکے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور ہلاک کر دیا۔
قسام ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دشمن پر دباؤ بڑھانے اور اس کے زمینی عزائم کو ناکام بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








