چنئی میں سن رائزرز حیدرآباد نے اپنی تاریخ کی پہلی کامیابی حاصل کی اور اس تاریخی جیت میں سری لنکن آل راؤنڈر کامیندو مینڈس کی آل راؤنڈ کارکردگی نے سب کو متاثر کر دیا۔
ایک طرف انہوں نے اپنی جادوئی اسپن باؤلنگ سے اہم وکٹیں حاصل کیں تو دوسری طرف ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر ٹیم کو دباؤ سے نکالالیکن سب سے یادگار لمحہ وہ شاندار کیچ تھا جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
کامیندو مینڈس نے اس میچ میں نہ صرف گیند سے اہم کردار ادا کیا بلکہ بیٹنگ کے دوران آخری لمحات میں ٹیم کو پُرسکون انداز میں فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔
ان کی بیٹنگ میں غیر ضروری جارحیت نہیں تھی بلکہ انہوں نے سوچی سمجھی اور متوازن اننگز کھیلتے ہوئے 22 گیندوں پر 32 رنز بنائے۔ یہی وہ لمحات تھے جب ٹیم کو اعتماد کی ضرورت تھی، اور انہوں نے وہ فراہم کیا۔
جب ڈیوالڈ بریوس چنئی کی امید بنے ہوئے تھے اور جارحانہ انداز اپنا چکے تھے تو ہریشل پٹیل کی ایک گیند پر انہوں نے ایک اور چھکے کی کوشش کی۔
گیند کافی بلندی پر نہیں گئی، لیکن کیچ تقریباً ناممکن لگ رہا تھا۔ طویل فاصلے سے کامیندو مینڈس نے بائیں جانب فلائنگ ڈائیو لگا کر صرف ایک ہاتھ سے گیند کو پکڑ لیا یہ نہ صرف ایک وکٹ تھی بلکہ چنئی کی آخری امید کا اختتام بھی۔
اس ناقابلِ یقین کیچ نے پورے میچ کا رخ بدل دیا۔ تبصرہ نگاروں کے مطابق یہ کیچ اس آئی پی ایل کا بہترین کیچ قرار دیا جا رہا ہے۔
پہلی اننگز میں جب چنئی کے بلے باز سنبھلنے کی کوشش کر رہے تھے تو کامیندو کی امبی ڈیکسرس اسپن (یعنی دونوں ہاتھوں سے اسپن باؤلنگ) نے انہیں مشکلات میں ڈالا۔ انہوں نے نہ صرف جڈیجا کی اہم وکٹ حاصل کی بلکہ ابتدائی اوورز میں کوئی باؤنڈری نہیں دی، جس سے بیٹنگ سائیڈ دباؤ میں آ گئی۔
یہ جیت نہ صرف حیدرآباد کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھی بلکہ ایک بحران سے نکلنے کی علامت بھی ہے۔
خاص طور پر کامیندو مینڈس جیسے کھلاڑی کی موجودگی ٹیم کو آئندہ میچوں میں نئے جذبے کے ساتھ کھیلنے کا حوصلہ دے گی۔ ان کی باؤلنگ، بیٹنگ، اور فیلڈنگ تینوں میں مہارت نے انہیں اس میچ کا غیر رسمی ہیرو بنا دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








