عید الاضحیٰ پر سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کو ایک عظیم مذہبی فریضہ اور حج کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے جسے اسلام میں سب سے بڑی قربانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ماہرینِ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنے اور اسے صحت مند طریقے سے استعمال کرنے کے درست طریقے ضرور اپنائیں تاکہ گرمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے خطرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین صحت نے عوام کو مشورہ دیا کہ قربانی کے گوشت کو ترجیحاً بھاپ میں پکایا جائے یا ابال کر استعمال کیا جائے جبکہ پراسیس شدہ شکل میں اس کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق سرخ گوشت کے زیادہ استعمال سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی اس حوالے سے پہلے ہی خبردار کر چکا ہے۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہفتے میں 350 گرام سے زیادہ گوشت کا استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین صحت نے گوشت کی تیاری سے لے کر پکانے تک چند اہم احتیاطی تدابیر بھی بتائیں جن میں گوشت سے اضافی چربی صاف کرنا، صحت مند تیل جیسے زیتون کا تیل، کینولا یا سورج مکھی کا تیل استعمال کرنا شامل ہے۔
ماہرین نے کہا کہ گوشت کو زیادہ تیز آنچ پر یا بہت دیر تک نہ پکایا جائے کیونکہ اس سے اس کی غذائیت کم ہو جاتی ہے اگرچہ ذائقہ بہتر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہلکی آنچ پر پکایا گیا گوشت اپنی غذائی افادیت برقرار رکھتا ہے اور اسے سلاد اور چٹنیوں کے ساتھ استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق دل کے مریض، انجائنا اور کولیسٹرول کے شکار افراد سرخ گوشت اعتدال کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں تاہم مکمل پرہیز ضروری نہیں۔ ان کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے اعتدال سب سے اہم اصول ہے۔
ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ قربانی کے گوشت کو مناسب مقدار میں سلاد کے ساتھ استعمال کریں جبکہ تکہ اور پراٹھے کے ساتھ زیادہ تیل یا کولڈ ڈرنکس کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پراٹھا اور کولڈ ڈرنک کا امتزاج صحت کیلئے انتہائی مضر ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق گوشت محفوظ کرنے کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہونا چاہیے تاہم بجلی کی لوڈشیڈنگ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








