پاکستان بھر میں موسلا دھار بارش، قومی اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

Arabian Sea Cyclone 'Shakhti' weakens into cyclonic storm
FILE PHOTO

پاکستان کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے نہ صرف شدید گرمی کی لہر کا خاتمہ ہوا بلکہ موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔

محکمہ موسمیات اور قومی ایمرجنسی اداروں نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ وزیرِ اعظم نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

پنجاب کے کئی اضلاع بشمول سیالکوٹ، گجرات، چنیوٹ، قصور، فیروزوالا اور سرگودھا میں وقفے وقفے سے شدید بارش ہوئی۔ ان علاقوں کے نواحی دیہات بھی بارش سے متاثر ہوئے۔

ڈسکہ، نارووال، حافظ آباد، صفدرآباد (خانقاہ ڈوگراں)، وزیرآباد اور سکھیکی میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پِنڈی بھٹیاں اور روجھان کے مضافاتی علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔

نارووال، وزیرآباد اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا اور موسم کو خوشگوار بنا دیا۔

سندھ کے اضلاع شہدادکوٹ، قمبر، میہڑ اور سجاول میں درمیانے سے لے کر تیز بارش ہوئی۔ بلوچستان کے شہروں سبی، ڈیرہ مراد جمالی، چھتر، منجھو شوری اور نصیر آباد میں بھی شدید بارش ہوئی۔

جیکب آباد، جھل مگسی، اوستہ محمد، گنداخہ اور باغ کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ بارشوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، ریسکیو اداروں، اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

وزیر اعظم نے خاص طور پر دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کے کنارے واقع علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے خدشات کے پیش نظر، پیشگی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

کراچی میں آج درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد رہا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کل بھی کراچی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے۔ صبح اور رات کے وقت سمندری بادلوں کے باعث ہلکی بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نچلے علاقوں میں رہائش پذیر افراد احتیاط برتیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

Related Posts