معروف اداکارہ حبا علی خان نے کہا ہے کہ اسلام میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ایک بامقصد اور محدود دائرے میں دی گئی ہے نہ کہ ذاتی خواہشات یا محض لطف اندوزی کے لیے دی گئی ہے۔
انہوں نے یہ گفتگو حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران کی، جہاں مختلف سماجی اور مذہبی موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
اداکارہ نے کہا کہ آج کل سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اپنی ذاتی ناکامیوں اور حسد کے باعث دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خاص طور پر خواتین فنکاروں کو ہدف بنانے کا رجحان عام ہے۔
ایسے لوگ اداکاراؤں کو ناپسند کرنے کے باوجود ان کے اکاؤنٹس پر آکر منفی تبصرے کرتے ہیں اور بعض تو انہیں دین سے خارج کرنے تک کی باتیں کرتے ہیں۔ اگر وہ خود کو اتنا اسلامی سمجھتے ہیں تو پھر انہیں سیلیبریٹیز کے بجائے دینی صفحات کو فالو کرنا چاہیے۔
حبا علی خان نے وضاحت کی کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ایک سماجی ضرورت کے تحت دی گئی ہے۔
اگر کسی عورت کو سہارا دینے کی ضرورت ہو، جیسے بیوہ، مطلقہ یا یتیم لڑکی، تو مرد کو شادی کی اجازت ہے لیکن یہ اجازت اس مقصد کے لیے نہیں کہ کم عمر یا صرف خوبصورتی کی بنیاد پر شادیاں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تصور غلط ہے کہ مرد ہر حالت میں چار شادیاں کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت ایک خاص فریم ورک میں دی ہے اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی ہے کہ سب بیویوں کے ساتھ برابری اور انصاف کیا جائے، جو عملی طور پر بہت مشکل ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ اگر کسی خاتون کی مدد کا مقصد ہو تو اس کے لیے شادی کے علاوہ بھی راستے موجود ہیں، جیسے مالی امداد یا روزگار کا انتظام۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک مرد کے لیے چار بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنا آسان نہیں، اور جب انصاف نہ ہو تو یہ رشتے مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








