بھارتی ریاست کرناٹک میں کلاس روم میں حجاب پہننے کا تنازعہ اب بھی جارہ ہے اور جن طالبات نے حجاب کے حوالے سے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا انہیں اب پریکٹکل امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گورنمنٹ پی یو کالج فار گرلز کی سائنس کی تین طالبات پیر کو ہونے والے پریکٹیکل امتحان میں شریک نہیں ہوسکیں،تینوں لڑکیاں حجاب پہن کر امتحان میں پہنچی لیکن کالج انتظامیہ نے انہیں حجاب اتارنے کو کہا جس سےطلباءنے انکارکیا۔
کالج کے پرنسپل رودرے گوڑا نے بتایا کہ امتحان صبح 9 بجے سے 11 بجے تک ہوا، دسمبر کے آخر سے چھ طالبات حجاب پہننے پر اصرارکر رہی ہیں،پیر کو ان میں سے تین امتحان کے لیے پہنچیں دو طالبات کا صبح اور ایک طالبہ کا دوپہر میں پریکٹیکل ہونا تھا۔
پرنسپل نے بتایا کہ دو لڑکیاں صبح کالج پہنچیں،وہ حجاب پہن کر لیب میں داخل ہونا چاہتی تھی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عملے نے طالبات کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانیں، اس کے بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور لڑکیاں کالج سے چلی گئیں۔
پرنسپل نے کہا کہ پریکٹیکل کے لیے کوئی سپلیمنٹری امتحان نہیں ہے جس سے طالبات کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
مزید برآں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والی درخواست گزاروں میں سے ایک اے ایچ الماس نے ٹویٹ کیاکہ آج ہمارا آخری پریکٹیکل امتحان تھا، ہم نے اپنی ریکارڈ بک مکمل کر لی تھی اور بڑی توقعات کے ساتھ پریکٹیکل امتحان میں شرکت کے لیے گئی تھیں۔
الماس نے کہا کہ بہت مایوسی ہوئی جب ہمارے پرنسپل نے ہمیں دھمکی دی کہ آپ کے پاس جانے کے لیے پانچ منٹ ہیں، اگر آپ نہیں گئیں تو میں پولیس میں شکایت کروں گا۔