خیرپور: کمسن گھریلو ملازمہ فاطمہ کے قتل سے متعلق کیس میں نامزد ملزمہ حنا شاہ نے گرفتاری دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو وومن تھانے منتقل کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نامزد ملزمہ حنا شاہ نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو ریمانڈ کیلئے عدالت میں پیش کریں گے جس سے خیرپور میں بااثر پیر کی حویلی میں انتقال کر جانے والی فاطمہ کے کیس میں پیشرفت کی توقع ہے۔
خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
ملزمہ کی حوالگی پر تبصرہ کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس کی کارروائیوں کے باعث ہی ملزمہ حنا شاہ نے گرفتاری دی جسے ویمن تھانہ منتقل کیا گیا ہے۔ ملزمہ کے شوہر اور مرکزی ملزم اسد شاہ پہلے ہی جیل میں ہیں۔
سندھ پولیس نے 4روز قبل ملزمہ کے والد فیاض شاہ کو بھی حراست میں لیا۔ پیر فیاض شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران بیان دیا کہ فاطمہ پر تشدد نہیں ہوا، کمسن ملازمہ کی موت طبعی تھی۔ رانی پور درگاہ سیاسی محاذ آرائی کا نشانہ بنی ہے۔
قبل ازیں فاطمہ کی والدہ نے ایس ایچ او پر بھی قتل کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ پیر فیاض شاہ نے کہا کہ ہمارے تمام اہلِ خانہ بے گناہ ہیں اور ہمارا مؤقف سنا نہیں جارہا۔ مقدمے کی یکطرفہ کہانی سنائی جارہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








