انتہا پسند ہندوؤں کا مسجد پر حملہ، قرآن پاک کی بے حرمتی! نیپال میں فرقہ وارانہ آگ بھڑک اٹھی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارت سے ملحقہ نیپال کے سرحدی شہر برگنج میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے قران پاک نذر آتش کرنے اور مسجد کو شہید کرنے کے واقعے کے بعد صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی۔ فرقہ وارانہ تناؤ کے باعث احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گئے جس کے نتیجے میں مقامی انتظامیہ نے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

افسوسناک واقعہ نیپال کے ضلع دھانوشا میں پیش آیا جہاں ہندو انتہا پسند نوجوانوں کے ایک گروپ نے مسجد پر حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا اور قران کریم کی مقدس کتاب کو نذر آتش کیا۔

پولیس کے مطابق یہ اقدام سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایسی پوسٹس کے ردعمل میں کیا گیا جو مبینہ طور پر ہندو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی تھیں۔ ان پوسٹس سے منسلک دو مسلم نوجوانوں کو بعد ازاں حراست میں لے لیا گیا۔

مسجد کی توڑ پھوڑ اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد برگنج میں مسلم کمیونٹی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے، نعرے بازی کی اور ایک مقامی پولیس چوکی کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران بعض ہندو تنظیموں نے بھی احتجاج کیا جس سے شہر میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔

صورتحال بگڑنے پر پیر کے روز پرشا ضلع کی انتظامیہ نے برگنج میٹروپولیٹن سٹی کے حساس علاقوں میں دفعہ نافذ کرتے ہوئے احتجاج، جلوس اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم پابندی کے باوجود مظاہرے جاری رہے جس پر شام 6 بجے سے مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا، جو ابتدا میں منگل صبح 8 بجے تک تھا، بعد ازاں تناؤ برقرار رہنے پر اسے منگل دوپہر 1 بجے تک بڑھا دیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق کرفیو کا دائرہ مشرق میں بس پارک اور بائی پاس روڈ سے لے کر مغرب میں سرسیا پل تک جبکہ شمال میں پاور ہاؤس چوک سے جنوب میں شنکر آچاریہ گیٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایمرجنسی کے سوا گھروں سے باہر نہ نکلیں، خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس نے اب تک تقریباً دو درجن افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ مسجد کی توڑ پھوڑ کے واقعے میں 9 افراد کے خلاف باقاعدہ شکایات درج کی جا چکی ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

برگنج نیپال کا ایک اہم سرحدی شہر ہے جو بھارت کے صوبہ بہار کے علاقے راکسول سے متصل ہے اسی لیے یہاں پیدا ہونے والا فرقہ وارانہ تناؤ سرحدی علاقوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مقامی رہنماؤں اور انتظامیہ نے دونوں برادریوں سے امن و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

Related Posts