پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے وسط میں چھپی ہوئی ایک تاریخی عمارت جسے صدیوں سے شہر کے لوگ صرف نیلا گنبد کے نام سے جانتے تھے بالآخر اپنی اصل صورت میں عوام کے سامنے آ گئی ہے۔ یہ عمارت زمین کے اندر اور چھوٹے چھوٹے دکانوں اور گھروں کے پیچھے چھپی ہوئی تھی اس لیے کئی دہائیوں تک عام لوگوں کی نظر سے اوجھل رہی۔
نیلا گنبد محمد صالح کمبوہ کا مقبرہ ہے جو شاہجہان اور اورنگزیب کے دور میں اہم شخصیت شمار ہوتے تھے۔ وہ مغلیہ دور کے ایسے اہلکار تھے جنہوں نے عمل صالح جیسی تاریخی خدمات انجام دی تھیں۔ قدیم زمانے میں اس کا گنبد شام کے وقت دور سے روشن نظر آتا اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا تھا۔
Credit goes to Muhammad Nawaz Sharif 💯 https://t.co/HopVqOK0lU
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) November 26, 2025
وقت کے ساتھ لاہور کی گلیوں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، غیر قانونی تعمیرات اور چھوٹی دکانوں کی بھرمار نے اس مقبرے کو مکمل طور پر چھپا دیا۔ مقامی دکاندار اور چھوٹے کاروباری حضرات مقبرے کے ارد گرد اپنے کاموں میں مصروف تھے، اور بہت سے حصے ایسے تھے جو مقامی لوگ اسٹور یا کمرے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اس دوران مقبرے کی اصلی خوبصورتی، نیلی کاشی اور فنِ تعمیر متاثر ہوئے۔
سالوں کی تاخیر کے بعد مریم نواز کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس تاریخی ورثے کو مزید نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ غیر قانونی دکانیں اور قبضے ہٹائے گئے اور آخرکار مقبرہ صاف ہوا۔ اب شہر کے لوگ پہلی بار اس نیلے گنبد کو کھلے آسمان کے نیچے دیکھ سکتے ہیں اور اس کی اصل عظمت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
آج نیلا گنبد نہ صرف محمد صالح کمبوہ کے مزار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے بلکہ لاہور کی تاریخ اور ثقافت کی ایک نمایاں پہچان بھی ہے۔ یہ واقعہ یہ یاد دلاتا ہے کہ تاریخی ورثے کی حفاظت وقت کی اہم ضرورت ہے اور کبھی کبھار، شہر کے ارتقا میں ورثے کا حق جیت جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








