مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی انکم ٹیکس وصولی 5.83 کھرب روپے تک پہنچ گئی جوکہ گزشتہ سال کے 4.57 کھرب روپے کے مقابلے میں بڑا اضافہ ہے۔
یہ ملک کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی ٹیکس وصولی ہے لیکن اس بلند شرح نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ تنخواہ دار طبقہ اور کاروباری افراد بڑھتے ہوئے مالی دباؤ سے پریشان ہیں اور ٹیکس کے نظام کی منصفانہ نوعیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست ٹیکس کی 70 فیصد سے زیادہ رقم ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں جمع ہوئی جو بالواسطہ طور پر وصول کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے اور منظم کاروبار پر پڑا ہے جبکہ غیر رسمی معیشت اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
مالی سال 2024-25؛
تنخواہ دار طبقے سے 575 ارب روپے وصول ہوئے (گذشتہ سال 364 ارب روپے) یعنی 57 فیصد اضافہ۔
کاروباری شعبے نے مجموعی طور پر 5.3 کھرب روپے جمع کروائے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکس کا بوجھ اب بھی انہی شعبوں پر زیادہ ہے جو پہلے ہی قانون کی پابندی کرتے ہیں جبکہ ٹیکس نیٹ سے باہر والے طبقات کو شامل نہیں کیا گیا۔
ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے اصلاحات نہ کیں تو یہ وقتی کامیابیاں معیشت پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں چاہے محصولات کا ریکارڈ کتنا بھی بڑھ گیا ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








