ہانگ کانگ کی بلند و بالا عمارتوں میں خوفناک آگ، 44 افراد ہلاک، سیکڑوں لاپتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Hong Kong buildings blaze kills 44, nearly 300 missing
ONLINE

ہانگ کانگ میں تین دہائیوں کی بدترین آگ نے بلند و بالا رہائشی عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں 44 افراد جاں بحق اور 279 سے زائد لاپتہ ہو گئے۔

یہ آگ تائی پو کے شمالی علاقے میں واقع 32 منزلہ رہائشی ٹاورز میں لگی، جو قابلِ اشتعال بانس کی اسکیفولڈنگ اور سبز میش سے ڈھکے ہوئے تھے۔

کئی گھنٹوں بعد بھی عمارتوں سے شعلے اور دھواں اٹھتا رہا جبکہ ریسکیو ورکرز مسلسل موقع پر امدادی کاموں میں مصروف رہے۔

آگ کی وجہ فوری طور پر معلوم نہ ہو سکی تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق بانس کی اسکیفولڈنگ اور اس پر لپٹی حفاظتی میش نے شعلوں کو مزید بھڑکایا۔

ہانگ کانگ میں مارچ سے بانس کی اسکیفولڈنگ کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جا رہا ہے تاکہ تعمیراتی مقامات کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

پولیس نے واقعے کی سنگینی کے پیش نظر تین افراد کو حراست میں لے کر ان پر قتلِ خطا کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

آگ لگنے کے بعد فائر فائٹرز نے پوری رات متاثرہ ٹاورز تک رسائی کی کوششیں جاری رکھیں، مگر شدید حرارت نے بالائی منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات پیدا کیں۔

وانگ فوک کورٹ نامی اس ہاؤسنگ کمپلیکس میں آٹھ بلاکس پر مشتمل 2,000 فلیٹ موجود ہیں، جن میں سے متعدد افراد عمارتوں کے اندر پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

ایک 71 سالہ رہائشی اپنے عزیز کی عمارت میں موجودگی پر زار و قطار روتا دکھائی دیا جبکہ مرنے والوں میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق 29 افراد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جبکہ 900 سے زائد افراد کو ایمرجنسی شیلٹرز میں منتقل کیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوری ترجیحات میں آگ بجھانا، پھنسے ہوئے افراد کو نکالنا، زخمیوں کی دیکھ بھال اور بعد ازاں شفاف تحقیقات شامل ہیں۔

ادھر چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی تمام اداروں کو آگ بجھانے اور نقصانات کم کرنے کے لیے ہمہ جہت کوششیں کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ رات گئے تک تین عمارتوں میں آگ پر قابو پالیا گیا تھا جبکہ چار ٹاورز اب بھی شدید شعلوں کی لپیٹ میں تھے۔

Related Posts