اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ زینب بل میں نے گزشتہ اسمبلی میں پیش کیا تھا، امید ہے یہ بل سینیٹ سے بھی جلد منظور کیا جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ اسمبلی کی مدت میں بل پاس نہ ہوسکا، تاہم آج پارلیمان نے متفقہ طور پر زینب الرٹ بل منظور کر لیا۔
وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ امید ہے سینیٹ بھی اس قانون کو جلد منظور کر لے، ملک کے معصوم بچوں کی حفاظت پارلیمان اور حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہونی چاہئے۔
زینب الرٹ بل جو میں نے پچھلی اسمبلی میں پیش کیا تھا لیکن اس اسمبلی کی مدت میں پاس نہ ہو سکا ، آج پارلیمان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا. امید ہے سینیٹ بھی اس قانون کو جلد منظور کرے گی. اس ملک کے معصوم بچوں کی حفاظت پارلیمان اور حکومت کی اوّلین زمہ داری ہونی چاہیے
— Asad Umar (@Asad_Umar) January 10, 2020
یاد رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے پیش کیا۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ اور جرائم کے انسداد کے لیے زینب الرٹ جوابی ردِ عمل و بازیابی ایکٹ 2019ء بل کو اراکینِ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
بل کے تحت بچوں کے ساتھ مار پیٹ، ظلم و تشدد اور دیگر جرائم کے ارتکاب پر کم از کم 10 سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ زیادہ سے زیادہ سزا کی حد پھانسی یا عمر قید مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل متفقہ طور پرمنظور
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








