امریکا آبنائے ہرمز کی بندش پر ناراض ہوکر دیگر ممالک کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسانے لگا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جو ممالک عالمی قوانین کی فکر کرتے ہیں، انہیں کچھ کرنا چاہئے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹو ممالک کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ جنگوں میں امریکا سے متعدد بار مانگی گئی اور ہم نے مدد کی۔ جب ہمیں ضرورت پڑی تو نیٹو سے مثبت جواب نہیں ملا۔
بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک دو ممالک نے کہا کہ ایران جنگ یورپ کی جنگ نہیں ہے۔ اگر ایران جنگ یورپ کی جنگ نہیں تو ٹھیک ہے۔ یوکرین بھی ہماری جنگ نہیں ہے۔ یوکرین جنگ ہماری نہیں، لیکن ہم نے سب سے زیادہ حصہ لیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران ہراساں کرنا بند کردے تو کل ہی آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔ آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ان ممالک کو کچھ کرنا چاہئے جنہیں عالمی قوانین کی فکر ہے۔
گفتگو کے دوران مارکو روبیو نے کہا کہ جی 7 ممالک کی پیشکش ہمارے لیے کوئی مدد نہیں۔ آبنائے ہرمز سے امریکا کی توانائی کا بہت کم حصہ آتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے آبنائے ہرمز میں مفادات ہیں۔ جن کے مفادات ہیں، وہ آگے آئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








