کراچی میں دو کمسن بچیوں کی پراسرار برآمدگی نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جس پر سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لے لیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں لاوارث حالت میں ملنے والی دو بچیوں کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی جنوبی سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ بچیوں کو ہر ممکن قانونی تحفظ اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
پولیس کے مطابق دونوں بچیاں گزشتہ رات شیریں جناح کالونی کے بس اسٹاپ سے ملی تھیں جہاں وہ تنہا اور بے سہارا حالت میں موجود تھیں۔ پولیس انہیں اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر گئی جہاں ان سے ابتدائی معلومات حاصل کی گئیں۔
ایس ایس پی جنوبی کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچیاں صادق آباد سے کراچی پہنچی تھیں تاہم ان کے یہاں آنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
واقعے نے اس وقت مزید سنگینی اختیار کر لی جب تھانے میں موجودگی کے دوران ایک بچی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی جس پر اسے فوری طور پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا بعد ازاں میڈیا پر یہ خبر بھی سامنے آئی کہ طبی معائنے کے دوران ایک بچی سے زیادتی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق وہ اسپتال انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جیسے ہی میڈیکل رپورٹ موصول ہوگی اس کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب اب تک کسی بھی سرپرست کی جانب سے بچیوں کی گمشدگی کے حوالے سے پولیس سے رابطہ نہیں کیا گیا جس کے باعث کیس مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور اگر کسی جرم کے شواہد ملے تو ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








