پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا جہاں تین معصوم بچوں کے قتل کے کیس میں ایک چونکا دینے والا موڑ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس کو شبہ ہوا ہے کہ اس سنگین واردات میں بچوں کی اپنی والدہ ہی ملوث ہو سکتی ہے جس کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون کے ممکنہ محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی مراحل میں اس کا کردار مشکوک پایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تینوں زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے مبینہ طور پر واردات کے بعد خود کو بے گناہ ظاہر کرنے کے لیے ایک ڈرامائی کہانی بنانے کی کوشش کی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون گھر سے میڈیکل جانے کا کہہ کر نکلی اور بعد میں شوہر کو فون کرکے بلایا پھر واپسی پر صورتحال کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ واقعے کا الزام ساس پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکے۔ ڈی آئی جی آپریشنز ذیشان رضا کے مطابق خاتون مبینہ طور پر گھریلو تنازعات کے باعث طلاق چاہتی تھی اور اسی مقصد کے لیے اس نے یہ قدم اٹھایا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ نے واردات کے لیے نیا چاقو خریدا اور بعد ازاں معاملے کو گمراہ کن رخ دینے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کے نام سے ہوئی ہے، جن کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔
پولیس نے شک کی بنیاد پر بچوں کی والدہ ردا، والد رمضان اور چچا کو حراست میں لے رکھا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر میں ہونے والے جھگڑے اور تنازعے اس دلخراش واقعے کی ممکنہ وجہ ہو سکتے ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








