یمن کے ساحلی شہر حدیدہ میں حالیہ دنوں میں تجارتی بحری جہاز پر ہونے والے حملے نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق، لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والے یونانی ملکیت والے بحری جہاز میجک سی پر چھوٹی کشتیوں سے راکٹ پروپیلڈ گرینیڈز اور خودکش ڈرون بوٹس سے حملے کیے گئے۔
حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور پانی رسنا شروع ہو گیا، جس کے باعث عملے کو جہاز خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تمام 19 ارکان عملہ اور تین مسلح سکیورٹی گارڈز کو بحفاظت بچا لیا گیا اور وہ بعد ازاں جیبوتی پہنچے۔
یہ حملہ نومبر 2023 کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ہونے والا پہلا بڑا حملہ ہے۔ حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس کا جواز فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس حملے کے بعد اسرائیل نے یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں حدیدہ، راس عیسیٰ، صلیف اور راس قنطیب کے بندرگاہوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران سے حوثیوں کو اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ حملہ خطے میں بحری سلامتی کے لیے نئی کشیدگی کا آغاز ہے یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








